
Krishn Parvez
Krishn Parvez
Krishn Parvez
Ghazalغزل
جب بھی ان کا خیال آیا ہے دل پہ کیف و سرور چھایا ہے لوگ پھولوں کو بھی مسلتے ہیں ہم نے کانٹوں سے گھر سجایا ہے یوں تو خوشیاں بھی تھیں محبت میں درد ہی دل کے کام آیا ہے ہر خوشی ایک خواب ہو جیسے زندگی جیسے کوئی سایہ ہے سارا عالم نشے میں ڈوب گیا تم نے آنکھوں سے کیا پلایا ہے اف تراشا ہوا حسین بدن خود خدا نے تمہیں بنایا ہے جھوٹی باتوں سے دل بہلتا ہے سچی باتوں نے دل جلایا ہے وقت کی مار بھی عجب شے ہے اچھے اچھوں کو ہوش آیا ہے غم جو پرویزؔ دل کا محرم تھا وہ بھی اپنا نہیں پرایا ہے
jab bhi un kaa khayaal aayaa hai
زمانے میں کسی کے ہاتھ میں پتھر نہیں ملتا مگر محفوظ کوئی جسم کوئی سر نہیں ملتا ہے اپنے آپ میں سمٹا ہوا ہر شخص دنیا میں کوئی کھل کر نہیں ملتا کوئی ہنس کر نہیں ملتا سکوں کے واسطے ہر سو بھٹکتی پھر رہی دنیا دوا ہو کارگر جس کی وہ چارہ گر نہیں ملتا گنہ کتنے کئے اہل سیاست نے مگر پھر بھی کوئی الزام اب تک تو کسی کے سر نہیں ملتا جہاں پر دو گھڑی پرویزؔ ہم آرام کر لیتے تمہارے شہر میں ایسا کوئی بھی گھر نہیں ملتا
zamaane mein kisi ke haath mein patthar nahin miltaa
کیوں خوف سا آتا مجھے دیوار سے در سے وہ ٹوٹا مکاں اچھا تھا اس کانچ کے گھر سے کچھ لوگ اندھیرے میں چلے جانب منزل ہم گھر سے نکلتے ہی نہیں دھوپ کے ڈر سے دیتا ہی نہیں ساتھ بڑے وقت میں کوئی جھڑ جاتے ہیں پتے بھی خزاں میں تو شجر سے سچائی کا دعویٰ جو کیا کرتے تھے ہر دم وہ لوگ بھی خاموش رہے موت کے ڈر سے افسوس بہت ہے کہ یہ پورا نہیں اترا امید بہت رکھی تھی دنیا نے بشر سے خود مٹ کے زمانے کو اجالا ہی دیا ہے سیکھا ہے سبق ہم نے یہی شمع سحر سے جس کو نہ کوئی رنج کوئی غم نہ ملا ہو گزرا ہی نہیں ایسا بشر میری نظر سے تم وقت پہ پرویزؔ ہر اک جبر کو روکو پانی نہ نکل جائے کہیں دیکھنا سر سے
kyon khauf saa aataa mujhe divaar se dar se
آرزو باقی نہیں کوئی خوشی باقی نہیں بجھ گئی ہے شمع دل اب روشنی باقی نہیں اے امیدو سو بھی جاؤ شام غم ڈھلنے لگی اب نشاط زندگی میں دل کشی باقی نہیں پہروں احساس غریبی پر تھا جھنجھلایا کبھی لاشۂ احساس میں اب تشنگی باقی نہیں گیت بکھرائے تھے میں نے راہ الفت میں کبھی اب شکستہ ساز ہوں وہ نغمگی باقی نہیں نام سے پرویزؔ جن کے چار سو تھی روشنی بجھ گئے وہ رنج و غم سے روشنی باقی نہیں
aarzu baaqi nahin koi khushi baaqi nahin
کیسے دل کا کہا کرے کوئی دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی غم تو لاکھوں دئے ہیں دنیا نے اب دوا بھی عطا کرے کوئی کام آئیں نہ وقت پڑنے پر ایسے یاروں کا کیا کرے کوئی ہم وفا کی روش نہ بدلیں گے لاکھ ہم پر جفا کرے کوئی ایک دل ہے اسے بھلا کیوں کر درد میں مبتلا کرے کوئی غم گساری تو اٹھ گئی پرویزؔ کیا کسی کا گلہ کرے کوئی
kaise dil kaa kahaa kare koi
کسی صورت نظر کی فتنہ سامانی نہیں جاتی بجھے جاتے ہیں دل چہروں کی ویرانی نہیں جاتی خدا کا نام لینے کو تو لیتے ہیں سبھی لیکن خدا کی بات دنیا میں کہیں مانی نہیں جاتی مرے چہرے کے خد و خال کیا پہچانتا کوئی کہ خود اپنی ہی صورت مجھ سے پہچانی نہیں جاتی حقیقت خود بہ خود روشن ہوئی ہے سات پردوں سے دلیلوں سے مثالوں سے کبھی جانی نہیں جاتی اگرچہ اس میں لاکھوں حسرتوں کے پھول کھلتے ہیں مگر پھر بھی ہمارے دل کی ویرانی نہیں جاتی نظام میکدہ بدلا نئے ساقی نئی صہبا مگر کیوں پھر بھی لوگوں کی پریشانی نہیں جاتی جنوں کی منزلوں تک کس طرح پرویزؔ پہنچو گے اگر دشت خرد کی خاک بھی چھانی نہیں جاتی
kisi surat nazar ki fitna-saamaani nahin jaati





