SHAWORDS
K

Krishn Soni Nisha

Krishn Soni Nisha

Krishn Soni Nisha

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

نشاؔ گھبرا کے کاشانوں سے ویرانوں میں آ پہنچے بہار آئی تو اہل دل بیابانوں میں آ پہنچے ہماری کیا خطا ہے یہ خطا دیر و حرم کی ہے خدا کا گھر نہ راس آیا تو مے خانوں میں آ پہنچے ہماری گمرہی آخر ہمیں رستے پہ لے آئی خرد کے دشت و در سے چل کے انسانوں میں آ پہنچے گلوں کی باریابی کا سبب رنگ و لطافت ہے یہ کانٹے کس طرح آخر گلستانوں میں آ پہنچے قریں جب آ گئی منزل تو جانے کیا ہمیں سوجھی پلٹ کر از سر نو پھر انہیں راہوں میں آ پہنچے ابھی ہے دور فیض صحبت اخلاص کی دنیا جو مے خواروں تک آ جائے تو انسانوں میں آ پہنچے نہ آتا تھا نہ آئے وہ کچھ ایسی بات تھی لیکن یہ کیا کم ہے دبے پاؤں مرے شعروں میں آ پہنچے

'nishaa' ghabraa ke kaashaanon se viraanon mein aa pahunche

غزل · Ghazal

اب کوئی چیز باعث راحت نہیں مجھے یوں زندگی سے کوئی عداوت نہیں مجھے رہتا ہوں اجنبی سا گل و گلستاں میں میں رنگ و بہار سے کوئی رغبت نہیں مجھے گرتی ہو جس پہ برق تڑپ کر نہ ہم نشیں اس آشیاں سے کوئی بھی نسبت نہیں مجھے رہ رہ کے یاد آتی ہیں تیری نوازشیں اے چشم ناز تجھ سے شکایت نہیں مجھے لیتا ہوں چھپ کے نام ترا حسرتوں سے میں پھر سے مچل نہ جائیں یہ حسرت نہیں مجھے عادت سی ہو گئی ہے تڑپنے کی اے نشاؔ کوئی بھی حادثہ ہو قیامت نہیں مجھے

ab koi chiiz baais-e-raahat nahin mujhe

غزل · Ghazal

چمن کا ذکر ہی کیا حسن لا زوال کے بعد خیال خلد کریں کیا ترے خیال کے بعد خبر نہیں مجھے کیا ان کے قلب پر گزری کہ شرمسار ہوا ہوں میں عرض حال کے بعد نہ چھوڑ گردش دوراں اب ایک عالم پر کوئی تو حال ہو میرا شکستہ حال کے بعد کچھ اور ہو نہ سکی ان سے گفتگو آگے کہ آ گئے تھے وہ سکتہ میں اک سوال کے بعد نگاہ و دل کا ہمارے بھی ہے وہی عالم ہوا جو طور پہ نظارۂ جمال کے بعد ہیں عکس پائے نگاراں پہ سجدہ ہائے مدام اٹھا ہی کرتے ہیں دست دعا ہلال کے بعد وہ آج سرحد لفظ و بیاں سے باہر ہے نشاؔ مجھے جو مسرت ہوئی ملال کے بعد

chaman kaa zikr hi kyaa husn-e-laa-zavaal ke baad

غزل · Ghazal

حاصل دل تباہ کو راحت کبھی نہ ہو ہم کو غم فراق سے فرصت کبھی نہ ہو اب چونکتا نہیں ہوں تمہارے ستم پہ میں یہ بھی ہے کیا مقام کہ حیرت کبھی نہ ہو گر حال دل سنائیں تو کس کو سنائیے ایسی تو دشمنوں کی بھی قسمت کبھی نہ ہو گھبرا کے حادثات سے دامن بچا سکے اتنی دل تباہ کی جرأت کبھی نہ ہو ہم منتظر ہوں اور گریزاں ہوں بجلیاں ایسی نگاہ ناز قیامت کبھی نہ ہو قائم رہے یہ ربط غم و درد سے نشاؔ سوچیں اگر مفر کی بھی صورت کبھی نہ ہو

haasil dil-e-tabaah ko raahat kabhi na ho

غزل · Ghazal

خار و گل کا فیصلہ ہونے کو ہے نظم گلشن اب نیا ہونے کو ہے زخم پھر بھرنے کو آئے ہیں ندیم کوئی تازہ حادثہ ہونے کو ہے خیر مقدم کی مرے تیاریاں اب حرم بھی میکدہ ہونے کو ہے خیریت گزرے بروز احتساب ان کا میرا سامنا ہونے کو ہے آشیاں سے دور ٹوٹیں بجلیاں اب نشاؔ بے آسرا ہونے کو ہے

khaar-o-gul kaa faisla hone ko hai

غزل · Ghazal

میں چلا ہوں ڈھونڈھتا منزلیں مجھے آشنا کی تلاش ہے مری اس جبین نیاز کو ترے نقش پا کی تلاش ہے وہ فضائے عشق پہ ہے نظر جو وسیع سے ہو وسیع تر ابھی انتہا کا ہے ذکر کیا ابھی ابتدا کی تلاش ہے جو نثار پائے حسیں ہوا جو غبار بن کے بھی اڑ چکا رہ بے خودی میں مجھے اسی دل مبتلا کی تلاش ہے سبھی رحمتیں جو سمیٹ لے جو ہوا نہ ہو کسی اور سے مجھے اس گناہ کی ہے جستجو مجھے اس خطا کی تلاش ہے میں ہی سر بہ سجدہ رہا کروں میں طواف شوق کیا کروں جو خدا نہ ہو کسی اور کا مجھے اس خدا کی تلاش ہے ابھی میکدے سے ہیں نسبتیں ابھی ہیں سکون کی کاوشیں ابھی خام ہے مرا سوز غم مجھے انتہا کی تلاش ہے یہ بجا کہ حسن کو ناز ہے یہ درست عشق کو فخر ہے جو سراپا خود ہو جلا نشاؔ مجھے اس وفا کی تلاش ہے

main chalaa huun DhunDhtaa manzilein mujhe aashnaa ki talaash hai

Similar Poets