
Kumar Kaushal
Kumar Kaushal
Kumar Kaushal
Ghazalغزل
زخم تو سب بھرتے بھرتے بھر جائیں گے بس میری آنکھیں بنجر کر جائیں گے لڑکوں کا پیچھا بستہ کب چھوڑے گا کالج چھوڑے گا تو دفتر جائیں گے رشتہ نازک ہوتے ہیں تتلی جیسے کس کے اگر پکڑوگے تو مر جائیں گے یہ دنیا تو دفتر ہے انسانوں کا لوٹ کے سب اپنے اپنے گھر جائیں گے تنہائی میں کوشلؔ ایسے ڈوبے ہیں محفل لفظ بھی سن لیں تو ڈر جائیں گے
zakhm to sab bharte bharte bhar jaaeinge
خوب صورت چاند جیسی دل نشیں کا ہو گیا دل نہ اب میرا رہا اک نازنیں کا ہو گیا تم کو اب ہاں بولنے کی کچھ ضرورت ہی نہیں میں تو پہلے ہی تمہاری اس نہیں کا ہو گیا عشق سے ملنے گلے ایسے برس بیٹھا کہ بس دیکھتے ہی دیکھتے بادل زمیں کا ہو گیا رابطہ میرا غزل سے ہو گیا اک موڑ پر زندگی بھر کے لیے پھر اس حسیں کا ہو گیا مجھ کو ساحرؔ لے کے آئے شاعری کی بزم میں پھر ملا جب جونؔ صاحب سے یہیں کا ہو گیا
khubsurat chaand jaisi dil-nashin kaa ho gayaa





