Kumar Panipati
Kumar Panipati
Kumar Panipati
Ghazalغزل
بے بسی زندگی کی آس میں ہے کیا بتاؤں کہ کیا گلاس میں ہے زخم یادوں کے خوں امیدوں کا جانے کیا کیا دل اداس میں ہے آج کس زہر سے بھروں اس کو وہ سمندر جو میری پیاس میں ہے ڈھک سکے جو کسی غریب کا تن پھول ایسا کوئی کپاس میں ہے خود خزاں پوچھتی ہے رہ رہ کر فصل گل آج کس لباس میں ہے
bebasi zindagi ki aas mein hai
1 views
مرے دل کو سپرد غم نہ کرنا مرے احساس پر پتھر نہ دھرنا مرے جینے کی اپنی ہی ادا ہے مجھے معلوم ہے ہنس ہنس کے مرنا مری سانسوں میں بھی کچھ زہر سا ہے مرے نزدیک سے بچ کر گزرنا مجھے اپنوں نے وہ دھوکے دئے ہیں مجھے آتا نہیں غیروں سے ڈرنا وفا کی آڑ میں لوٹا گیا ہوں بہت مشکل ہے اب میرا سنورنا مرے اجڑے ہوئے گلشن کے پھولو مری بربادیوں کا غم نہ کرنا
mire dil ko supurd-e-gham na karnaa
1 views
عہد نو کی سسکیوں کا ساز ہے میری غزل سوز میں ڈوبی ہوئی آواز ہے میری غزل زندگی کا نغمۂ صد ساز ہے میری غزل وقت کے ہر عکس کی غماز ہے میری غزل اس کی رگ رگ میں ہیں میری دھڑکنوں کی وسعتیں میرے ہر ہم راز کی ہم راز ہے میری غزل شیخ سعدیؔ سے نہیں مجھ کو کوئی نسبت مگر اہل فن کو دعوت شیراز ہے میری غزل جو جدید اسلوب کو دے گی روایت کا شعور اس نئی تحریک کا آغاز ہے میری غزل
ahd-e-nau ki siskiyon kaa saaz hai meri ghazal
1 views
اک عمر کی امید کا انجام بس اک آہ اس دور میں جینے کا ہے انعام بس اک آہ شاید کسی خوش بخت نے کچھ اور سنا ہو محسوس ہوئی ہم کو تو ہر گام بس اک آہ اک میں ہی نہیں تم بھی پریشان کھڑی ہو ہونٹوں پہ لئے اپنے سر بام بس اک آہ دنیا میں بہت کچھ ہے مگر یہ بھی تو سچ ہے لکھ دی ہے مقدر نے مرے نام بس اک آہ اے گلشن پر کیف کے بیتاب شگوفو ہنستے ہوئے پھولوں کا ہے انجام بس اک آہ
ik umr ki ummid kaa anjaam bas ik aah





