SHAWORDS
K

Kushal Dauneriya

Kushal Dauneriya

Kushal Dauneriya

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

kyaa ho ki meri zindagi se tu nikal sake

کیا ہو کہ میری زندگی سے تو نکل سکے جس سے کہ میرے درد کا پہلو نکل سکے درکار اس لئے ہے مجھے دوسرا بدن اس کی دل و دماغ سے خوشبو نکل سکے سب اپنی اپنی لاشوں کو مندر میں لے چلو شاید خدا کی آنکھ سے آنسو نکل سکے گہری ہوئیں جڑیں تو یہ شاخیں ہری ہوئیں پاؤں جمے تو پیڑ کے بازو نکل سکے میں اس کے بعد صرف انہیں کوششوں میں ہوں گردن سے اس کے نام کا ٹیٹو نکل سکے اپنی ہتھیلیوں میں یہ آنکھیں نچوڑ لوں ممکن ہے تیرے ہجر سے چلو نکل سکے میں چاہتا ہوں رات میں سورج مکھی کھلے میں چاہتا ہوں دن میں بھی جگنو نکل سکے

غزل · Ghazal

aankhon ke saath use miraa hansnaa nahin pasand

آنکھوں کے ساتھ اسے مرا ہنسنا نہیں پسند دریا ہو یا ہو گھاؤ اسے گہرا نہیں پسند تم کو تو مجھ سے گفتگو کرنا پسند تھا اب کیوں مری مزار پہ رکنا نہیں پسند تاریخ آ چکی ہے ادھر کارڈ چھپ گئے اب کب کہے گی تجھ کو وہ لڑکا نہیں پسند کپڑوں سے عطر تک یا کتابوں سے ہار تک وہ بولے تو سہی کہ اسے کیا نہیں پسند اک دن پڑا ملا تھا مجھے راستوں پے اور اک دن سنا اسے مرا چھونا نہیں پسند

غزل · Ghazal

kuchh aise raaston se ishq kaa safar jaae

کچھ ایسے راستوں سے عشق کا سفر جائے تمہارا ہجر بہت دور سے گزر جائے اداسیوں سے بھری کچی عمر کی یہ نسل جو شاعری نہ کرے تو دکھوں سے مر جائے پچاس لوگوں سے وہ روز ملتی ہے اور میں کسی کو دیکھ لوں تو اس کا منہ اتر جائے گھٹا چھٹے تو دکھے چاند بھی ستارے بھی جو تم ہٹو تو کسی اور پر نظر جائے ہزار سال میں تیار ہونے والا مرد اس ایک گود میں سر رکھتے ہی بکھر جائے میں اس بدن سے سبھی پیرہن اتاروں اور اندھیرا جسم پہ کپڑے کا کام کر جائے میری ہوس کو کوئی دوسرا میسر ہو تمہارا حسن کسی اور سے سنور جائے

غزل · Ghazal

tamaam umr bachaataa rahaa khudaa us ko

تمام عمر بچاتا رہا خدا اس کو کسی کی لگ ہی گئی پھر بھی بد دعا اس کو وہ اپنی زندگی اور دوستوں میں ہے مصروف میری تمام پریشانیوں سے کیا اس کو تم اس سے کہنا کسی دن تباہ کر دے گا کم عمر لڑکیوں کے دل سے کھیلنا اس کو بچھڑتے وقت اسے دیکھ کر لگا جیسے ہر ایک چیز کا پہلے سے علم تھا اس کو ہنر شناس کسی دن قرار کر دیں گے بنانے والے ترے فن کی انتہا اس کو نہ جانے کون سا پیشہ ہے جس میں لگتا ہے ہر ایک شام کوئی آدمی نیا اس کو اسے ستائیں محبت کے لوٹتے موسم کبھی بھی راس نہ آئے امیرکا اس کو خدا میں بھی تری اس دنیا کو مٹا دوں گا ہمارے جھگڑے میں کچھ بھی اگر ہوا اس کو

Similar Poets