Lal Chand Parathi Chand Kalwi
کیا طرز تبسم ہے کہ تحریر لگے ہے بدلا ہوا تیور مری تقدیر لگے ہے کیوں دیکھ لیا وقت سفر پیار سے تم نے ہر تار نظر پاؤں کی زنجیر لگے ہے آنسو کی زباں کچھ نہیں یہ خود ہی زباں ہے آ جائے روانی پہ تو تقریر لگے ہے ہے شوق جنوں خیز کا ادنیٰ یہ کرشمہ ہر شے سے ابھرتی تری تصویر لگے ہے نشہ ہے تو اک نشہ ہے مستی ہے تو مستی دل اہل خرابات کی جاگیر لگے ہے صیاد کا یہ طرز تغافل بھی عجب ہے تاکے ہے ادھر اور ادھر تیر لگے ہے ہوتا نہیں اے چاندؔ اثر آہ کا ان پر اس میں کوئی تقدیر کی تاخیر لگے ہے
kyaa tarz-e-tabassum hai ki tahrir lage hai
1 views