Lal Chand Rangeen Aurangabadi
آج وہ شوخ رنگیلا جو چمن میں آوے سرو چلنے کو لگے غنچہ سخن میں آوے ناصحوں کی بھی نصیحت نہیں اب اس کو قبول بات کرتا ہے وہی اس کے جو من میں آوے زاغ کو کبک کی رفتار نیں آنے کی بوالہوس کو نہ کہو عشق کے فن میں آوے جس کے تئیں ہویگی خواہش سخن رنگیںؔ کی ہند سے نیں ہے عجب گر وہ دکن میں آوے
آج وہ شوخ رنگیلا جو چمن میں آوے