Lala Piyare Lal
رات دن ایک سا رہتا ہے اجالا مرے گھر آتشیں آہ ہے یا آٹھ پہر کی بتی پڑ گئی رکھتے ہی ناصور جگر میں ٹھنڈک اس کا پیکاں بھی ہے کیا خوب اثر کی بتی شب فرقت کا اندھیرا نہ گیا پر نہ گیا کام کچھ موم کی آئی نہ اگر کی بتی رات گھر اوس کے دیے میں کہیں جلتی تھی ضرور تار ہائے نگہ اہل نظر کی بتی شمع کی مجھ کو ضرورت نہیں واللہ ظہیرؔ میری روشن ہے ہر اک مصرعۂ تر کی بتی
raat din ek saa rahtaa hai ujaalaa mire ghar