SHAWORDS
L

Lalan Chaudhary

Lalan Chaudhary

Lalan Chaudhary

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

اب معتقد‌ گردش دوراں نہ رہے ہم قابل ترے اے دیدۂ جاناں نہ رہے ہم کب مل کے انہیں دل کی تمنائیں بر آئیں کب ان سے جدا ہو کے پریشاں نہ رہے ہم یہ بات دگر ہے کہ نہ تھے روبرو ان کے کب دید کا دل میں لئے ارماں نہ رہے ہم قسمت تو ذرا دیکھو کب آئی ہیں بہاریں جب قابل گل گشت گلستاں نہ رہے ہم ساقی کی نگاہوں نے پلا دی ہے کچھ ایسی جام‌ مئے گلفام کے خواہاں نہ رہے ہم اب درد ہی راحت سی ہمیں دینے لگا ہے چارہ گرو منت کش درماں نہ رہے ہم آفتؔ رہ الفت میں ہنسی آئی تھی اک دن بعد اس کے کبھی زیست میں خنداں نہ رہے ہم

ab mo'taqid-e-gardish-e-dauraan na rahe ham

غزل · Ghazal

اس بت سے دل لگا کے بہت سوچتے رہے صبر و سکوں لٹا کے بہت سوچتے رہے جب سامنا ہوا تو زباں رک گئی مری وہ بھی نظر جھکا کے بہت سوچتے رہے دیوانگئ شوق میں اپنے ہی ہاتھ سے گھر اپنا ہم جلا کے بہت سوچتے رہے امڈا جو ابر یاد نے ان کی رلا دیا خالی سبو اٹھا کے بہت سوچتے رہے کہتے کسے چمن میں لٹے آشیاں کی بات تنکے اٹھا اٹھا کے بہت سوچتے رہے دیکھا یہ جب کہ یاس و تباہی ہے حشر عشق آنسو بہا بہا کے بہت سوچتے رہے آفتؔ بشر نے جب بھی بشر پر کیا ستم ہم دکھ سے تلملا کے بہت سوچتے رہے

is but se dil lagaa ke bahut sochte rahe

غزل · Ghazal

صہبائے نظر کے اس چھلکانے کو کیا کہئے اس شوخ کی آنکھوں کے پیمانے کو کیا کہئے یوں برق نے پھونکا ہے سب خاک ہوئے سپنے برباد نشیمن کے افسانے کو کیا کہئے دے کر غم دل اب وہ بیمار محبت کو سمجھاتے ہیں ان کے اس سمجھانے کو کیا کہئے یہ سوز محبت ہے جب شمع ہوئی روشن جل جاتا ہے چپکے سے پروانے کو کیا کہئے بیٹھا ہے ابھی آ کر اٹھ کر ابھی چل دے گا دیوانہ ہے دیوانہ دیوانے کو کیا کہئے ہاتھوں میں لئے پتھر پھرتے ہیں مرے پیچھے اپنوں کی یہ حالت ہے بیگانے کو کیا کہئے رونا مجھے آتا ہے حالت پہ تری آفتؔ گھر کی جو یہ صورت ہے ویرانے کو کیا کہئے

sahbaa-e-nazar ke is chhalkaane ko kyaa kahiye

غزل · Ghazal

گلزار میں رفتار صبا اور ہی کچھ ہے اس شوخ کے چلنے کی ادا اور ہی کچھ ہے کرتی ہے خنک دل کی تپش باد سحر بھی لیکن ترے دامن کی ہوا اور ہی کچھ ہے شاید وہ شباب آنے سے آگاہ ہوا ہے پلکیں ہیں جھکیں رنگ حیا اور ہی کچھ ہے کس شوخ نے زلفوں کو ہوا میں ہے اڑایا یہ توبہ شکن کالی گھٹا اور ہی کچھ ہے کہنے کو تو ہر فرد و بشر سب ہیں برابر دنیا میں مگر شور بپا اور ہی کچھ ہے بیکس کا لہو شعلہ نہ بن جائے سنبھلنا پیغام سناتی یہ ہوا اور ہی کچھ ہے وہ لاکھ ستم ڈھائیں کبھی اف نہ کروں گا آفت مرا دستور وفا اور ہی کچھ ہے

gulzaar mein raftaar-e-sabaa aur hi kuchh hai

غزل · Ghazal

خوشی اپنی نہ اب تو لوٹتی معلوم ہوتی ہے انہیں مل کر انہیں کی ہو گئی معلوم ہوتی ہے اسیران قفس رونے سے کیا صیاد چھوڑے گا کسی کو کب کسی کی بیکسی معلوم ہوتی ہے ہماری سادہ لوحی دیکھیے راہ محبت میں کسی کی دشمنی بھی دوستی معلوم ہوتی ہے اگر تم نے نہ پہچانا تو کیا اب رنج فرقت میں مجھے اپنی بھی صورت اجنبی معلوم ہوتی ہے چلے آؤ مری تنہائیوں پر خنداں ہیں انجم برستی آگ سی یہ چاندنی معلوم ہوتی ہے کہیں پر بیٹھ کر آرام کی لو سانس نا ممکن مجھے اک قہر سی یہ زندگی معلوم ہوتی ہے ہزاروں منزلیں طے ہو گئیں اس کے طفیل آفتؔ مری رہبر مری دیوانگی معلوم ہوتی ہے

khushi apni na ab to lauTti maa'lum hoti hai

غزل · Ghazal

اسیران عشق بتاں اور بھی ہیں نہیں میں ہی محو فغاں اور بھی ہیں ابھی یہ جفا کا ہے آغاز اے دل وفا کے ابھی امتحاں اور بھی ہیں نہیں اک فلک کی ہے مجھ پر عنایت مرے حال پر مہرباں اور بھی ہیں ہمیں سے ہے کیوں لاگ برق تپاں کو چمن میں کئی آشیاں اور بھی ہیں رہ عشق میں مٹ گئے ہم تو کیا غم رہ عشق میں کارواں اور بھی ہیں کہا جب سے ہے حال دل ان سے اپنا وہ مجھ سے ہوئے بد گماں اور بھی ہیں وطن کی ترقی پہ خوش ہو نہ آفتؔ ابھی بے کس و بے مکاں اور بھی ہیں

asiraan-e-ishq-e-butaan aur bhi hain

Similar Poets