
Lankesh Gautam
Lankesh Gautam
Lankesh Gautam
Ghazalغزل
بغیر زیوروں کے بھی حسین ہے یقین ہے وفا جو اوڑھ لے وہ نازنین ہے یقین ہے پرندگی میں اس طرح سے چھو رہا ہوں آسماں کہ آسماں بھی اب مری زمین ہے یقین ہے اسی لئے وہ پوچھتی ہے پیار پر یقیں ہے کیا میں نامراد بول دوں یقین ہے یقین ہے اگر تمہارے نقش پا ملیں وفا کی راہ پر طویل راستہ بھی خوش ترین ہے یقین ہے اسے یہ لگ رہا ہے پھر شراب پی گئی مجھے وہ دو دکھا کے پوچھتا ہے تین ہے یقین ہے تری صدا کی دھن پہ جھومتا رہوں گا عمر بھر میں ناگ ہوں ترا کلام بین ہے یقین ہے گو مجھ کو مولوی بتا رہا تھا یہ حرام ہے مگر تو کہہ رہا ہے اس میں دین ہے یقین ہے
baghair zevaron ke bhi hasin hai yaqin hai
2 views
فراق کس پر کھلا ہے آخر جنون کس پر سوار ہوگا وہ کون ہے جو وجود اول میں صفر ہو کر شمار ہوگا ہمارے جانے کے بعد دنیا میں کیا بچے گا کسے خبر ہے مجھے یہ لگتا ہے دکھ بچیں گے خودی رہے گی غبار ہوگا سب اپنے ناخن سے اپنا سینہ ادھیڑ دو دل نکال پھینکو محبتوں کی یہی دوا ہے نہ دل رہیں گے نہ پیار ہوگا تمہارے ہونے کی ہر گواہی ہمارے ہونے پہ منحصر ہے ہمیں نہ ہوں تو کسے تمہارے وجود پر اعتبار ہوگا یہ روح تو ہجر یار میں بھی گزارہ کر لے گی خوش رہے گی وہ تو بدن ہے جو وصل میں بھی غم جہاں سے دو چار ہوگا جناب گوتمؔ کا تنگ ہونا کشادگی کی دلیل سمجھو جسے تلاش سکوں نہیں ہے بھلا وہ کیا بے قرار ہوگا
firaaq kis par khulaa hai aakhir junun kis par savaar hogaa
1 views
کیا ہے قید کہ زندان کر دیا ہے مجھے ترے بدن نے پریشان کر دیا ہے مجھے خودی کو آگہی میں سان کر دیا ہے مجھے خود اپنی موت کا امکان کر دیا ہے مجھے تمہارے ہجر نے آنکھیں نچوڑ لی ہیں مری رلا رلا کے بیابان کر دیا ہے مجھے نقاب پوش بڑا کفر ہو گیا تجھ سے نظر اٹھا کے مسلمان کر دیا ہے مجھے ادھر تو قلب نے پرچم اڑا دیا ہے مرا ادھر دماغ نے اعلان کر دیا ہے مجھے تمام حسن ہیں ویسے تو اپنی دنیا میں پر ایک شخص نے حیران کر دیا ہے مجھے ملا جلا کے اداسی ہے اور کچھ بھی نہیں ترے فریب نے ویران کر دیا ہے مجھے اداس کرنا مجھے سہل تو نہیں یوں بھی پھر اس نے وصل کے دوران کر دیا ہے مجھے کسی نے اپنے بدن کے جمال سے گوتمؔ تلاش روح سے بے دھیان کر دیا ہے مجھے
kiyaa hai qaid ki zindaan kar diyaa hai mujhe
1 views
چشم فروغ دل نے دکھایا بہ فیض عکس اک ادھ کھلی نظر کو نظارہ بہ فیض عکس دل میں جنوں کے آئنے ترتیب سے لگا جلنے لگے گا عقل کا صحرا بہ فیض عکس دنیا بہ فیض کن ہے ان آنکھوں کے درمیان دیکھیں گے درمیان میں دنیا بہ فیض عکس جلنے لگیں گے ہوش کے بکھرے ہوئے نقوش دکھنے لگے گا روح کا سایہ بہ فیض عکس پہلے بھی موج خودکشی میں آ چکا ہے دل پہچانتا ہے مجھ کو یہ دریا بہ فیض عکس سوچیں تو تیرگی بھی نہیں روشنی سے کم دیکھیں تو دکھ رہا ہے اندھیرا بہ فیض عکس چھٹتا ہے رفتہ رفتہ غبار شب فراق ہوتا ہے رفتہ رفتہ سویرا بہ فیض عکس شام وصال مجھ سے ٹپکتا تھا اتنا نور دکھتا نہیں تھا آپ کا چہرہ بہ فیض عکس موج ضیا پہ نقش ہے جو پرتو خدا ذرات روشنی میں نہاں تھا بہ فیض عکس
chashm-e-farogh-e-dil ne dikhaayaa ba-faiz-e-‘aks
دیمک تیرے فراق کی کھاتی رہی مجھے رہ رہ کے تیری یاد ستاتی رہی مجھے میں دشت ہو گیا تھا اسے سوچ سوچ کر وہ بھی سمجھ کے خاک اڑاتی رہی مجھے اس کی طلب ہی سے میں گیا خودکشی کی سمت جو زندگی کے گھونٹ پلاتی رہی مجھے غرقاب ہو چکا تھا میں دریا کی کوکھ میں آ آ کے کوئی موج اٹھاتی رہی مجھے ورنہ تو سرد رات میں بجھ ہی گیا تھا میں کوئی ہوائے تیز جلاتی رہی مجھے وہ فکر مارکیز کی ریمیڈیوس تھی خلوت کے سو سو سال جگاتی رہی مجھے ہائے وہ تیری آگ سے بچنے کی کوششیں کن آتشوں میں گھیر کے لاتی رہی مجھے
dimak tere firaaq ki khaati rahi mujhe
محبت کے نشہ میں چھن چھنن کرتے ہوئے کنگن ترے ہاتھوں میں آ کر اور بھی مہنگے ہوئے کنگن بڑی مشکل سے اس کے باپ نے کنگن خریدے تھے سہاگن تک رہی ہے دور سے بیچے ہوئے کنگن بنا مرضی کے یہ زیور فقط بندھن برابر ہیں نہیں جچتے کسی کے ہاتھ میں باندھے ہوئے کنگن بھلے کچھ کر نہیں سکتا مگر یہ دکھ تو ہے مجھ کو پرائے ہاتھ میں جاکر بہت میلے ہوئے کنگن وہ اچھے سے سمجھتی تھی مرے گھر بار کی حالت سو اس کے ہونٹ کن پہ رک گئے کہتے ہوئے کنگن کسی نے طیش میں آکر ترے ہاتھوں کو جھٹکا تھا مرے پاؤں میں چبھتے ہیں تیرے ٹوٹے ہوئے کنگن
mohabbat ke nashe mein chhan-chhanan karte hue kangan





