SHAWORDS
L

Lateef Ahmad Subhani

Lateef Ahmad Subhani

Lateef Ahmad Subhani

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

lag gae barson javaabaat bataane ke liye

لگ گئے برسوں جوابات بتانے کے لئے ان خرافات کو گھر گھر سے ہٹانے کے لئے کس قدر زہر پیا ضبط کیا ہے میں نے جو لگی آگ ہے سینے میں چھپانے کے لئے ایسے بھی لوگ بہت سارے ملیں گے تم کو ہر غلط کام کیا نام کمانے کے لئے خون دل خون جگر جان تلک نذر کیے کیا نہیں دے کے گئے لوگ زمانے کے لئے داؤ پر لوگ لگا دیتے ہیں ہر شے اپنی اپنے دشمن کو فقط نیچا دکھانے کے لئے کون جاتا ہے کسی تپتے ہوئے صحرا میں اپنی تنہائی کا اک جشن منانے کے لئے کوششیں جاری ہیں اس دور کی ہر دن اے لطیفؔ جتنے جنگل ہیں انہیں شہر بنانے کے لئے

غزل · Ghazal

na koi khvaab hogaa aur na khvaabon kaa jahaan hogaa

نہ کوئی خواب ہوگا اور نہ خوابوں کا جہاں ہوگا کوئی دل میں نہیں ہوگا تو دل خالی مکاں ہوگا بہت ہی سوچ کر تو کشتیٔ عمر رواں کو ڈال مقابل میں تلاطم خیز بحر بیکراں ہوگا نہیں ہے دور وہ منظر جسے دیکھے گا یہ عالم مسلماں اک طرف اور اک طرف سارا جہاں ہوگا یہ دور پر فتن ہے بوجھ اپنا خود اٹھاؤ تم تمہارا درد بانٹے گا نہ کوئی مہرباں ہوگا رئیسوں اور لٹیروں کا زمانہ ہے غریبو تم کبھی مت سوچنا تم پر زمانہ مہرباں ہوگا چٹانوں کی طرح میں عزم رکھتا ہوں لطیفؔ اب کے مجھے معلوم ہے ہر اک قدم پر امتحاں ہوگا

غزل · Ghazal

aks-dar-aks hai chehron ki numudaari se

عکس در عکس ہے چہروں کی نموداری سے آئنہ دیکھتے ہیں لوگ بھی بے زاری سے پھر بھی الزام کئی آ گئے سر پر اپنے میں گریزاں تو رہا وقت کی عیاری سے بغض ہے حرص ہے غیبت ہے ریا کاری ہے جس قدر بھی ہو رہو دور ہی بیماری سے بٹ کے رہ جاتا ہے انسان کئی حصوں میں مشغلے پیدا عجب ہوتے ہیں بیکاری سے بے سبب گرتا نہیں آدمی نظروں سے کبھی بد کلامی کے سبب یا کبھی مکاری سے نا مکمل ہے غزل غم کی مہارت کے بغیر حسن آتا ہے کہاں شعروں میں فن کاری سے لوگ گرویدہ مرے یوں ہی نہیں آج لطیفؔ دل کو جیتا ہے روابط سے روا داری سے

غزل · Ghazal

jo bujh gae unhin ko charaaghon kaa naam do

جو بجھ گئے انہیں کو چراغوں کا نام دو بے چہرگی کو اپنی گلابوں کا نام دو جو ہے حقیقی اس کو تو اب بھول جاؤ تم بے جان پتھروں کو خداؤں کا نام دو ہمدردیاں خلوص و محبت کہ دوستی اس دور میں انہیں بھی گناہوں کا نام دو ہے وقت کا تقاضا بری حرکتوں کو تم جدت کہو حسین اداؤں کا نام دو دہشت گری جہاں یہ پنپتی ہے رات دن سنتوں کا منہ کہو کہ گپھاؤں کا نام دو اس میں گھٹن ہے زہر ہے گرد و غبار ہے پھر بھی اسے شگفتہ فضاؤں کا نام دو ڈوبے تھے پھر بھی صاف نکل آئے اے لطیفؔ اس کو ادا کہو کہ دعاؤں کا نام دو

Similar Poets