
Laxmi Narayan Farigh
Laxmi Narayan Farigh
Laxmi Narayan Farigh
Ghazalغزل
بساط رنگ و بو آتش فشاں معلوم ہوتی ہے رگ گل میں نہاں برق تپاں معلوم ہوتی ہے تمنا ہی سے قائم ہے وقار نوجوانی بھی تمنا گرچہ جنس رائیگاں معلوم ہوتی ہے کنارہ ہے کوئی اس کا نہ اس کا کوئی ساحل ہے محبت ایک بحر بیکراں معلوم ہوتی ہے گذشتہ وارداتوں پر میں جب بھی غور کرتا ہوں مجھے ہر واردات اک داستاں معلوم ہوتی ہے وفا کوشی کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے پیری میں وفا پروردۂ فکر جواں معلوم ہوتی ہے اثر باقی ابھی تک ہے نگاہوں میں جوانی کا مجھے ہر ایک شے اب بھی جواں معلوم ہوتی ہے جفا و جور کے قصے ہیں اب بھی معتبر فارغؔ وفا کی بات زیب داستاں معلوم ہوتی ہے
bisaat-e-rang-o-bu aatish-fishaan maalum hoti hai
جہاں والوں سے برتی اس قدر بے گانگی میں نے کہ برہم کر لیا اپنا نظام زندگی میں نے سکھائے حسن کافر کو سلیقے خود نمائی کے سنوارا پے بہ پے اپنا مذاق عاشقی میں نے ہوئے روشن نہ پھر بھی بام و در فکر و تصور کے ہزاروں بار کی بزم جہاں میں روشنی میں نے دل ناعاقبت اندیش کی کوتاہ بینی کی کبھی تائید کی میں نے کبھی تردید کی میں نے ہزاروں بار تہذیب و تمدن کی فضا بدلی ہزاروں بار اک دنیا نئی آباد کی میں نے کیا افشا نہ راز غم کسی پر جیتے جی فارغؔ بڑے صبر و تحمل سے بسر کی زندگی میں نے
jahaan vaalon se barti is qadar be-gaangi main ne
اعتبار آرزو کا کر و فر جاتا رہا دل سے عرفان محبت کا اثر جاتا رہا شمع سوز غم کا قصہ رات بھر کہتی رہی دے کے پروانہ پیام مختصر جاتا رہا عہد رفتہ کو نہ دیکھا لوٹ کر آتے ہوئے اعتبار گردش شام و سحر جاتا رہا ہو سکے گا پھر نہ صیقل جوہر کردار زیست گر جہاں سے اعتبار خیر و شر جاتا رہا اعتبار آرزوئے مختصر باقی سہی اعتبار جذبۂ فکر و نظر جاتا رہا مشکلات عشق کا عقدہ نہ پھر بھی وا ہوا نامہ بر آتا رہا اور نامہ بر جاتا رہا فکر بیش و کم کے فارغؔ مرحلے طے ہو گئے دل سے احساس غم نفع و ضرر جاتا رہا
e'tibaar-e-aarzu kaa karr-o-far jaataa rahaa
جہان رنگ و بو پر چھا رہا ہے ہر اک پردے سے وہ جلوہ نما ہے بشر ٹھوکر پہ ٹھوکر کھا رہا ہے سزا اپنے کئے کی پا رہا ہے تمنا اور پھر ان کی تمنا یہ عرفان خودی کی انتہا ہے بتوں کو دیکھ کر آتا ہے تو یاد بتوں کے حسن میں جلوہ ترا ہے کہیں تو ہے کہیں تصویر تیری نہ کعبہ ہے نہ کوئی بت کدہ ہے تمہاری یاد کر لیتا ہوں تازہ بتوں کو کون کافر پوجتا ہے نہیں چارہ کسی کے پاس اس کا محبت ایک درد لا دوا ہے شراب زیست پیتا جا رہا ہوں سرور ہوش بڑھتا جا رہا ہے جگر میں چبھ رہی ہے نوک مژگاں بلا کا درد فارغؔ ہو رہا ہے
jahaan-e-rang-o-bu par chhaa rahaa hai
خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے بشر ناکام ہو کر رہ گیا ہے ترا ملنا بقید زندگانی خیال خام ہو کر رہ گیا ہے فریب اعتبار سعیٔ پیہم مرا انجام ہو کر رہ گیا ہے ہر اک عنواں بیاض آرزو کا ترا پیغام ہو کر رہ گیا ہے دل ناکام کا ہر داغ حسرت سواد شام ہو کر رہ گیا ہے وفا کا نام فارغؔ اس جہاں میں برائے نام ہو کر رہ گیا ہے
khataa anjaam ho kar rah gayaa hai
نقاب بزم تصور اٹھائی جاتی ہے شکست خوردوں کی ہمت بڑھائی جاتی ہے بھٹکنے لگتا ہے راہ وفا سے جب عالم حدیث عشق ہماری سنائی جاتی ہے متاع ہوش و خرد بے بہا سہی لیکن در حبیب پہ یہ بھی لٹائی جاتی ہے نظر سے ہوتی ہے لطف و کرم کی بارش بھی نظر سے برق تپاں بھی گرائی جاتی ہے وفور شوق کی دیکھو تو مصلحت کوشی جنوں کی بات خرد سے چھپائی جاتی ہے کس اعتماد سے آغاز دور الفت میں خیال و خواب کی دنیا بسائی جاتی ہے فضائے روح پہ تاریکیاں مسلط ہیں حرم میں شمع عقیدت جلائی جاتی ہے دکھا دکھا کے مآل جنوں کی فتنہ گری بشر کو رسم مروت سکھائی جاتی ہے متاع عشق و محبت نگاہ عالم سے کس احتیاط سے فارغؔ چھپائی جاتی ہے
naqaab-e-bazm-e-tasavvur uThaai jaati hai





