Lutfi Bedri
خلوت منے سجن کے میں موم کی بتی ہوں یک پاؤں پر کھڑی ہوں جلنے پرت پتی ہوں سب نس کھری جلوں گی جاگہ سوں ناہلوں گی ناجل کو کیا کروں گی اول سوں مدمتی ہوں ناتن میں حال بلن کا نا دل میں ڈر گلن کا ناسر میں سد جلن کا تو یو بلاستی ہوں جلتے کوں نا جلاؤ بجتے کوں آگ لاؤ بوجوں تو پھر جلاؤ نا یک رتی رتی ہوں شہ کے ملن کے ماتی ہر نس جلن کوں آتی سب قد کھرا جلاتی پن آہ نئیں کتی ہوں میں مست ہوں سجن کی سد بدسٹی ہوں تن کی اپ عشق کی مدن کی مغرور مدمتی ہوں جلنے کو نہ ڈروں گی نا جل کو کیا کروں گی کیوں نہ جلوں مروں گی اول تے عادتی ہوں رسیا چتر رسیلے بھوگی سو شاہ محمد مندر منے سجن کی نس جاگتی رہتی ہوں لطفیؔ ترے جلن کی پاکی کہاں ہے اس میں جیوں پانچ پانڈواں کی کہتے سو دھرپتی ہوں
خلوت منے سجن کے میں موم کی بتی ہوں