M I Zaahir
M I Zaahir
M I Zaahir
Ghazalغزل
basti basti shor machaa hai
بستی بستی شور مچا ہے صحرا میں اک چاند سجا ہے شاخ پہ کیسا پھول کھلا ہے پانی موجیں مار رہا ہے درد اٹھا ہے ٹیس کے دل میں صحرا صحرا گونج رہا ہے سب اپنے ہیں کون پرایا سننے میں اچھا لگتا ہے ننھی ننھی سی آنکھوں میں کوئی سپنا تیر رہا ہے ہم نے سب سے آنکھ چرا کر تجھ سے ناطہ جوڑ لیا ہے سب سے رشتہ توڑ کے ظاہرؔ اس نے میرا دل رکھا ہے
lau baDhi aur bhi baDhaane se
لو بڑھی اور بھی بڑھانے سے جل اٹھے ہیں دیے پرانے سے وقت ملتا تو پیار بھی کرتے ان کو فرصت کہاں رلانے سے نقش جیسا سبھاؤ ہے ان کا اور بگڑیں گے وہ بنانے سے ایک میں ہی کہاں پریشاں ہوں تنگ ہے وہ بھی تو زمانے سے روشنی جس نے دی زمانے کو میرا رشتہ ہے اس گھرانے سے موسموں کا مزاج ہے ظاہرؔ اور بگڑیں گے وہ زمانے سے
lahja vahi guftugu vahi hai
لہجہ وہی گفتگو وہی ہے صورت کتنی بدل گئی ہے گھر کی صورت بجھی بجھی ہے لیکن کھڑکی کھلی ہوئی ہے تنہائی کا سفر نہ پوچھو سناٹے کی صدا سنی ہے خالی خالی شجر سے جنگل اب کے بارش کہاں گئی ہے ظاہرؔ منظر بدل نہ جائے دیکھو کیسی ہوا چلی ہے
mauj ke saath thaa kinaaraa bhi
موج کے ساتھ تھا کنارا بھی خوب تھا آنکھ میں نظارہ بھی رات کے ساتھ چاند تارے تھے خواب میں خوب تھا سہارا بھی مڑ کے دیکھا تو ہم کو یاد آیا آپ سا شخص تھا ہمارا بھی کس کے رونے سے ساتھ روتے ہیں چاند بھی پھول بھی ستارا بھی
phuul agar kumhlaaeinge
پھول اگر کمھلائیں گے غنچے پھر کھل جائیں گے کتنی اچھی بستی ہے ہم بھی گھر بنوایں گے ہاتھ تمہارا تھاما ہے اب تو ساتھ نبھائیں گے اپنا دکھ مت کہنا تم سن کر لوگ چڑھائیں گے بھیگی آنکھوں نے پوچھا کب تک دھواں اڑائیں گے





