
M. J. Khalid
M. J. Khalid
M. J. Khalid
Ghazalغزل
آنسوؤں کے پھول پھل کا ذائقہ کچھ اور تھا درد کی شاخوں پہ کھلنے کا مزا کچھ اور تھا تم نے کیا کیا سونپ ڈالے مصلحت کی دھوپ کو سائبانی کے سفر کا سلسلہ کچھ اور تھا سرمدی سوچیں فلک رتبہ ہوئیں میرے طفیل شہر کے پیغامبر کا مشورہ کچھ اور تھا لفظ کے ہاتھوں ہوئی رسوائی میرے شعر کی فکر کے کشکول میں تو یا خدا کچھ اور تھا
aansuon ke phul-phal kaa zaaiqa kuchh aur thaa
1 views
شعور زندہ ہے میرا نظر سلامت ہے تری دعا کا ابھی تک اثر سلامت ہے مرے پڑوس میں کچھ سنگ دل تو ہیں لیکن ابھی تلک مرے شیشے کا گھر سلامت ہے یہ کم نہیں ہے مری فکر معتبر کے لئے قدم قدم یہی رقص شرر سلامت ہے جہاں کو فخر ہے تمغوں کی جگمگاہٹ پر مجھے ہے ناز کہ میرا ہنر سلامت ہے مخالفوں کی ہے شاید کوئی نئی سازش کہ میرے شانوں پہ میرا یہ سر سلامت ہے
shuur zinda hai meraa nazar salaamat hai
صبح کس کی ہے شام کس کی ہے زندگی زیر دام کس کی ہے چاند تارے ہیں جس کے دیوانے وہ شبیہ دوام کس کی ہے کون آیا ہے دل کی جنت میں یہ صبائے خرام کس کی ہے دونوں عالم میں کس کے چرچے ہیں حسرت ناتمام کس کی ہے شہر در شہر خوں میں ڈوبے ہیں زندگی سبز گام کس کی ہے کون سوچے گا دل کا مستقبل نیند آخر حرام کس کی ہے وہ تو اگلے گا آگ جیتے جی اس کے منہ میں لگام کس کی ہے
subh kis ki hai shaam kis ki hai
اپنی چپ میں وہ شان سمجھے ہے دل غموں کی زبان سمجھے ہے خاک سمجھے گا بام و در کا دکھ وہ جو خود کو مکان سمجھے ہے خوشبوئیں کیوں خفا خفا سی ہیں تتلیوں کی اڑان سمجھے ہے ابھی اس کی سمجھ ہے ناپختہ تیر کو وہ کمان سمجھے ہے میرے ہاتھوں کی ان لکیروں کو گزرے وقتوں کی آن سمجھے ہے بکھرے بادل کی بد حواسی کو وہ فضاؤں کی جان سمجھے ہے
apni chup mein vo shaan samjhe hai
گل مہر کی چھاؤں کا قصہ لکھوں یا پھر اپنی ذات کا نوحہ لکھوں درد کو لکھوں متاع زندگی زندگی کو آگ کا دریا لکھوں شہریت کا جب سوال آ جائے تو درد و غم کو دل کا باشندہ لکھوں آہ کو لکھوں شرار آرزو اور اشکوں کو گل رعنا لکھوں ظلمتوں کا عکس جن میں قید ہے جگنوؤں کو ایسا آئینہ لکھوں
gul-mohar ki chhaanv kaa qissa likhun
آنسو پینا اور مسکانا اچھا لگتا ہے چٹانوں سے سر ٹکرانا اچھا لگتا ہے نیلی پوشاکوں میں بادل پیارے لگتے ہیں برف محل میں آنا جانا اچھا لگتا ہے برف کے تودے رہتے ہیں مصروف شرارت میں پربت کا یہ کھیل پرانا اچھا لگتا ہے مستقبل کے منظر نامے لکھتا رہتا ہوں پھر بھی اپنا شعر پرانا اچھا لگتا ہے چاند کو بانہوں میں بھر کر میں ہنستا رہتا ہوں چاند کہے ہے یہ دیوانا اچھا لگتا ہے تن کے باغیچوں میں جب احساس مہکتے ہیں سورج کا اگنا ڈھل جانا اچھا لگتا ہے لوگ بلاتے ہیں اس کو جب میرے حوالے سے چونکنا اس کا اور شرمانا اچھا لگتا ہے جس کے پس منظر میں اجلی اجلی دھوپ ہو کوئی ایسے منظر کا ٹھکرانا اچھا لگتا ہے شمع فروزاں کی صورت الفاظ ہیں خالدؔ جی لہجہ یہ جانا پہچانا اچھا لگتا ہے
aansu piinaa aur muskaanaa achchhaa lagtaa hai





