M. Qamruddin
M. Qamruddin
M. Qamruddin
Ghazalغزل
کب زیر کر سکوں گا کسی بھی زبر کو میں ممکن ہے بس یہی کہ جھکا لوں نظر کو میں اس نے گہر گہر مرا قطرہ کیا مگر کیوں قطرہ قطرہ کرتا ہوں اس کے گہر کو میں وہ سچ بھی مل گیا ہے جو میٹھا ہے شہد سے کتنا ترس گیا ہوں اک ایسی خبر کو میں میں نے بنا لیا ہے مصاحب جو شہ کو اب حیرت سے دیکھتا ہوں خود اپنے ہنر کو میں سرسبز رکھنا اپنے پسینے سے تو اسے سینچوں گا اپنے خون سے تیرے شجر کو میں اے کاش اس کی روشنیاں تم سے کہہ سکیں تاریکیوں میں دیکھ چکا تھا سحر کو میں وقفہ مجھے ملا نہ ملے اک سفر کے بعد قدموں پہ لاد لیتا ہوں اور اک سفر کو میں
kab zer kar sakungaa kisi bhi zabar ko main
ہے جو اک معرکہ فیصل نہیں ہونے دیتا جن وہ ہو کے مجھے بوتل نہیں ہونے دیتا قتل اک روز ہی کرتا ہوں اسی گوشے میں اور ثابت اسے مقتل نہیں ہونے دیتا ضد ہے اس کی کہ ہر اک شاخ ہو پھر سبز ہی سبز گرچہ پیدا کوئی کونپل نہیں ہونے دیتا روشنی اپنے خیالوں ہی سے کرنی ہوگی کوئی روشن کہیں مشعل نہیں ہونے دیتا چوں کہ مٹی کی بھی ایک اپنی الگ خوشبو ہے میں کہیں بھی اسے صندل نہیں ہونے دیتا اک پرندہ کہ جو سہتا ہے ہواؤں کا دباؤ اور پرواز کو پیدل نہیں ہونے دیتا ڈر ہے اس کو نظر آئے نہ کہیں ذہن کا عکس وہ مرا آئنہ صیقل نہیں ہونے دیتا ترا قانون ہے جنگل کا غنیمت ہے کہ تو مرے اس شہر کو جنگل نہیں ہونے دیتا چلو بات اس کی سنیں ایک عجب منطق سے جو کسی بات کو مہمل نہیں ہونے دیتا
hai jo ik maa'raka faisal nahin hone detaa
کیا اپنے شہر میں کوئی ایسا مکان ہے سمجھوں جسے کہ اصل میں وہ اک جہان ہے ڈھونڈو حقیقت اس میں نہ افسانہ ہی کوئی اس کا بیان کچھ نہیں اس کا بیان ہے اپنا شعار اب ہے فقط امن دشمنی یہ اور بات فاختہ اپنا نشان ہے لکھنے کو ایک حرف نہ کہنے کو ایک لفظ یوں تو قلم ہے ہاتھ میں منہ میں زبان ہے وہ لمس جس کے بعد زمانے گزر گئے وہ لمس اب بھی تازہ ہے اب بھی جوان ہے ہو جائے گا یقین سبھوں کا ہی کل جو آج میرا یقین اور سبھوں کا گمان ہے شطرنج کی بساط کہ تھی اپنی میز پر شطرنج کی بساط کہ سارا جہان ہے
kyaa apne shahr mein koi aisaa makaan hai
کام لیا جب لفظوں ہی سے خود کو بس ناکام کیا بات اثر انداز ہوئی جب شعروں کو پیغام کیا یہ کیسے ساری دنیا میں آج بہت مشہور ہو تم ویسے تو ساری دنیا نے تم کو بہت گمنام کیا یک رنگی سے عاجز آ کر رنگا رنگی کی خاطر جو مجھ کو راس آیا تھا اس نیلم کو نیلام کیا اکثر تنہائی میں مجھ کو یاد آ جاتا ہے وہ سب ہاں آغاز سے پہلے ہی جس کو میں نے انجام کیا خاموشی پس فن ہے خدا کا سیکھا ہم نے بھی لیکن ہر سو روز مچایا تہلکہ یا پیدا کہرام کیا وقت کے ساتھ اور آپ کے ہاتھوں قدریں کتنی بدلی ہیں ایک الزام سے کتنا کم ہے حاصل جو انعام کیا کہیے حسن اور عشق کو دے کر اپنے دل کے خون کا لمس کس نے اسے گل رنگ کیا پھر کس نے اسے گلفام کیا اب کا فساد آرام سے گزرے اس کوشش میں اس نے تو قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا
kaam liyaa jab lafzon hi se khud ko bas naakaam kiyaa





