
Maaz Muaviya
Maaz Muaviya
Maaz Muaviya
Ghazalغزل
تیرے رخسار کا میں دوانہ ہوا عشق تجھ سے ہوا والہانہ ہوا میرا جو دل تھا میرا تو تھا ہی نہیں میرا اسلوب بھی عاجزانہ ہوا اک زمانہ ہوا تجھ کو دیکھا نہیں تجھ کو دیکھا نہیں اک زمانہ ہوا میرے دل میں ہوا ہے مقید کوئی تیرا دل بھی کوئی قید خانہ ہوا
tere rukhsaar kaa main divaana huaa
عدو کی سمت سے ہم پر جو تیر مارا گیا ہمارے جذبۂ الفت کو پھر ابھارا گیا ہمارے زخم تمنا کھلے گلوں کی طرح جو تیرا نام سر بزم یوں پکارا گیا وہ جس کا ساتھ اکیلا ہمیں نہ چھوڑتا تھا ہماری زیست کا وہ خوش نما سہارا گیا غریب شخص کی الفت امر ہوئی آخر شہ دیار جفا تخت سے اتارا گیا کسی کو منزل مقصود خود بلاتی رہی کسی کو راہ کی تاریکیوں میں مارا گیا ہماری مانگ نہ جانے یہاں پہ کون بھرے کسی کے سامنے دامن اگر پسارا گیا کسی کو اپنا بنانے کی آرزو کیوں ہو کہ ڈوب اپنے مقدر کا جب ستارہ گیا یہ شاعری تو میاں خون دل سے پھوٹے گی لہو سے قلب کے جذبوں کو گر سنوارا گیا رہ حیات سے وابستگی تو ہے اس کی معاذؔ لوٹ ہی آئے گا گر پکارا گیا
'adu ki samt se ham par jo tiir maaraa gayaa
وچن مجھ سے کر کے وفا کے چلے وہ دیے سب ہی روشن بجھا کے چلے وہ جو غفلت میں دیکھے محبت کے سپنے حقیقت میں سپنے دکھا کے چلے وہ مدینے میں جنت ہے جنت میں آقا عقیدت سے پلکیں جھکا کے چلے وہ سیاسی نشے میں ہے کرسی کا چسکہ جو آئے وطن کو ہی کھا کے چلے وہ اسے میرے ہمراہ چلنا ہے گر تو انا کو پھر اپنی مٹا کے چلے وہ
vachan mujh se kar ke vafaa ke chale vo
محبت کا نغمہ سنانا ہے تم کو محبت ہے کیا یہ بتانا ہے تم کو محبت نہیں کام کی چیز پیارے محبت میں سب کچھ لٹانا ہے تم کو وہ دن کا اجالا وہ راتوں کے سپنے محبت میں کیوں سب مٹانا ہے تم کو محبت نے چھینی ہیں کتنوں کی عقلیں محبت نے مجنوں بنانا ہے تم کو محبت نشہ ہے سنو اک سزا ہے محبت نے زندہ جلانا ہے تم کو
mohabbat kaa naghma sunaanaa hai tum ko
اے کاش ملے یار کا دیدار مسلسل میں جس کے لیے جاتا ہوں دربار مسلسل میں راہ وفا دیکھنا سر کر کے رہوں گا رستے میں کھڑی لاکھ ہو دیوار مسلسل جا صاحب زر جیت بنی تیرا مقدر ہم ایسے غریبوں کی ہوئی ہار مسلسل پھیلائے نہیں ہاتھ کسی فرد کے آگے ثابت ہوئے ہر حال میں خوددار مسلسل جب نام ہوا میرا ترے نام سے منسوب جلنے لگے سب صورت اغیار مسلسل دنیا ہے معاذؔ اب بھی محبت سے گریزاں لٹکی رہی ہر دور میں تلوار مسلسل
ai kaash mile yaar kaa didaar musalsal
جب تجھے خواب بناتا ہوں تو رو دیتا ہوں آنکھ پردوں سے ہٹاتا ہوں تو رو دیتا ہوں اس قدر دل میں نمی ہے کہ ٹھہرتا ہی نہیں ذہن پر چاند اگاتا ہوں تو رو دیتا ہوں خامشی اتنی زیادہ ہے دیار دل میں شور کے پاس بھی جاتا ہوں تو رو دیتا ہوں اس طرح میرے لئے کھڑکی کھلی رہتی ہے اک گلی چھوڑ کے جاتا ہوں تو رو دیتا ہوں اس طرح تم بھی بسی ہو مری دانائی میں جب کبھی آرٹ بناتا ہوں تو رو دیتا ہوں ان قبیلوں میں محبت بھی نہیں اگتی ہے جب اسے دیکھنے جاتا ہوں تو رو دیتا ہوں پھر اسی سمت سے کچھ تازہ ہوا آتی ہے جس طرف دشت کو جاتا ہوں تو رو دیتا ہوں
jab tujhe khvaab banaataa huun to ro detaa huun





