
Madhav Jha
Madhav Jha
Madhav Jha
Ghazalغزل
ہے گلہ اپنی جگہ اور عاشقی اپنی جگہ درد دل کے ساتھ ملنے کی خوشی اپنی جگہ وصل ہو یا ہجر ہو کچھ ہوش رہتا ہے کہاں لذتیں اپنی جگہ ہیں بے خودی اپنی جگہ روٹھ کر سینہ سے لگنے والے نے مجھ سے کہا پیار ہے اپنی جگہ اور بے رخی اپنی جگہ عمر جب تک مہرباں ہے کھل کے جینا چاہیئے موت ہے اپنی جگہ اور زندگی اپنی جگہ میری غزلوں پہ مقرر کہتے ہیں سارے عدو دشمنی اپنی جگہ ہے شاعری اپنی جگہ
hai gila apni jagah aur aashiqi apni jagah
ہو زمانہ ادھر ادھر ہم تم ایک دوجے کے دل جگر ہم تم دل کی منزل کے ہم سفر ہم تم ہو کے دنیا سے بے خبر ہم تم آسماں سے جو دیکھے چاند کبھی چاند کو آئے بس نظر ہم تم وصل کی رات مختصر سی لگی رہے باتوں میں رات بھر ہم تم آئے کوئی شکن نہ چہرے پر راستے میں ملیں اگر ہم تم وقتی ہر شے ہے اس جہاں میں پر عشق کے دہر میں امر ہم تم
ho zamaana udhar idhar ham tum
نہ منہ میں اک نوالہ جا رہا ہے فقط دھوکے میں ڈالا جا رہا ہے نکالا جا چکا ہوں دہر سے جب تو کیوں دل سے نکالا جا رہا ہے یہ کافر بس تمہیں پانے کی خاطر بہانے سے شوالہ جا رہا ہے تیری یادیں سنجوتا ہوں میں ایسے کہ جیسے سانپ پالا جا رہا ہے سفر مشکل سمجھئے بس وہاں تک جہاں تک یہ اجالا جا رہا ہے
na munh mein ik nivaala jaa rahaa hai
نہ ہی رنج ہے نہ ملال ہے تیرے ہجر کا یہ کمال ہے میں بیاں کروں اسے کس قدر تیرے بن جو گزرا یہ سال ہے وہ جو آج چل رہے کجروی یہ تو دشمنوں کی سی چال ہے میں بھٹک رہا یوں ہی در بہ در تیرے عشق ہی میں یہ حال ہے کوئی زخم دے نہ سوا ترے ترا ایسا ہی تو خیال ہے
na hi ranj hai na malaal hai
جینا مشکل ہے یہاں آسان سب سے خودکشی اس لئے لگتی بھلی ہے زندگی سے خودکشی عشق تو اب نام ہے اس کا تھا پہلے خودکشی عشق کرنے والوں کو ملتی ہے راہ خودکشی کون دیتا ہے کسی کو حوصلہ یاں جینے کا کہہ رہے اک دوسرے کو کر لے پیارے خودکشی ایک مدت بعد آئے آج وہ محفل میں جب زندگی تھی سامنے پھر کیسے کرتے خودکشی زندگی کے تجربے کیسے ملے یاں پر شکیبؔ جو کہ آخر خود سے اک دن کر لی تم نے خودکشی تن کسی کے پاس ہے تو دل کسی کے ساتھ میں سیج پر بیٹھے ہوئے وہ کر رہے ہیں خودکشی جینے کی حسرت نہیں رستہ یا منزل بھی نہیں جی رہے ہیں اس طرح بہتر تھی اس سے خودکشی قطرہ قطرہ مرنے سے مادھوؔ ہے بہتر بس یہی سوچتا ہوں میں لگا لوں اب گلے سے خودکشی
jiinaa mushkil hai yahaan aasaan sab se khud-kushi





