SHAWORDS
Madhav Noor

Madhav Noor

Madhav Noor

Madhav Noor

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

احوال رنج بزم میں کہنا محال ہے کہتے ہیں خوب شعر کہا ہے کمال ہے کتنا حسیں عروج ہے کیسا جمال ہے لیکن ازل سے طے ہے کہ اک دن زوال ہے شاید وہ اک سراب ہے لیکن میں کیا کروں میرا وہی ہے دشت میں پرسان حال ہے پوچھا گیا ہے مجھ سے ترا کون ہے خدا یا رب عالمین یہ کیسا سوال ہے ڈرنے کا دے دیا ہے وبا نے نیا سبب باقی ہر ایک خوف یہاں حسب حال ہے

ahvaal-e-ranj bazm mein kahnaa muhaal hai

1 views

غزل · Ghazal

دیکھ کر پورے تماشے کو ہی گھر جائیں گے تری دنیا میں چند اک روز ٹھہر جائیں گے سارے رستے تری جانب ہی لئے جاتے ہیں یہ نہ سوچا کہ مرے پاؤں کدھر جائیں گے زندگی ہم ترے کاندھوں پہ کوئی بوجھ نہیں ہم بس اک موج ہوا بن کے گزر جائیں گے کب تلک قید میں رہتی مرے اندر کی تپش یہ شرر آج ہواؤں میں بکھر جائیں گے کوئی زندان ہمیں روک نہیں پائے گا ہم مچا کر ترے خیمے میں غدر جائیں گے

dekh kar puure tamaashe ko hi ghar jaaeinge

غزل · Ghazal

اسی لیے ہیں یہاں وسوسے بہت سارے مری زبان پہ ہیں ذائقے بہت سارے بس اک صنم تھا مگر مسئلے بہت سارے گزشتہ دور میں تھے ولولے بہت سارے حیات کہنے لگی کچھ نہیں رہا باقی مگر قضا نے دئے زاویے بہت سارے میں بن گیا تھا کوئی جو میں کبھی تھا ہی نہیں نئی قبا نے دئے حوصلے بہت سارے قبا پہن کے مرے جسم کی کوئی میرا رفیق لینے لگا فیصلے بہت سارے

isi liye hain yahaan vasvase bahut saare

غزل · Ghazal

میں انجان تھا جن سے ایسے جذبوں کی پہچان ہوئی نورؔ بنا جو قوس قزح تو رنگوں کی پہچان ہوئی کھول کے آنکھیں جب بھی حقیقت کا میں نے دیدار کیا مجھ کو دلاسہ دینے والے سپنوں کی پہچان ہوئی میں سارے آکاش میں گھوما پنکھ تھکے تو لوٹ آیا جب آ کر ڈالی پہ بیٹھا پیڑوں کی پہچان ہوئی عشق میں مل کے کھینچ رہا ہے دیکھ لکیریں گالوں پر دکھ اور کاجل کے ناجائز رشتوں کی پہچان ہوئی میں نے اپنے رہبر کو بس یاد کیا اور مسکایا مستوں کی ٹولی میں جب بھی پیروں سے پہچان ہوئی

main anjaan thaa jin se aise jazbon ki pahchaan hui

غزل · Ghazal

ہے جما خون رگوں میں کہ رواں کچھ بھی نہیں تم سے یہ کس نے کہا ہے کہ وہاں کچھ بھی نہیں کوئی دھڑکن کی سی آواز اٹھی سینے میں جب کہ ہاتھوں سے ٹٹولا تو کہاں کچھ بھی نہیں قبل اور بعد کے منظر تو ہوئے ہیں یکساں تجھ سے پہلے کہ ترے بعد جہاں کچھ بھی نہیں دیکھ تنہائی مجھے چھوڑ گئے یار سبھی مسکرا دے کہ سوا تیرے یہاں کچھ بھی نہیں پھر سے برہا میں جلا نورؔ کرشمہ کیا ہے کوئی انگار نہ آتش نہ دھواں کچھ بھی نہیں

hai jamaa khuun ragon mein ki ravaan kuchh bhi nahin

غزل · Ghazal

گویا لٹوں کی ڈور سے باندھا ہوا ہے چاند دیکھو سیاہ زلف میں کیسے پھنسا ہے چاند پونم کے بعد دیکھا نہیں سات دن اسے میں نے سنا ہے روٹھ کر آدھا ہوا ہے چاند پہلے جمال و نور کی باتوں میں گم ہوا پھر داغ داغ سن کے سسکنے لگا ہے چاند بھولے کے سر پہ بھی یہی گنبد پہ بھی یہی تو کیوں سیاستوں میں الجھنے لگا ہے چاند اماں کھڑی ہے پاس میں تھالی پروس کر برسوں کے بعد پھر مرا ماما بنا ہے چاند

goyaa laTon ki Dor se baandhaa huaa hai chaand

Similar Poets