Madho Kaushik
Madho Kaushik
Madho Kaushik
Ghazalغزل
اپنے دل کا حال سنانا کم سے کم آنکھوں میں آنسو بھی لانا کم سے کم ملنے والی چیزیں خود مل جاتی ہیں اپنے دامن کو پھیلانا کم سے کم دل کے رشتے دھن دولت پر بھاری ہیں دنیا کے دستور نبھانا کم سے کم رہزنوں بے شک سے تم لوٹو گھر میرا پر سپنوں میں سیندھ لگانا کم سے کم زیادہ جھکنے پر پگڑی گر سکتی ہے درباروں میں شیش جھکانا کم سے کم زیادہ سے زیادہ سنانا سب کے من کی اپنے بارے میں بتلانا کم سے کم
apne dil kaa haal sunaanaa kam se kam
1 views
سفر ٹھہرے تو کچھ منزل کی سوچوں ذہن خاموش ہو تو دل کی سوچوں گزرتا وقت رکتا ہی کہاں ہے میں کیسے وقت کے حاصل کی سوچوں بہت دن سے طوفانوں میں گھرا ہوں چلو کچھ دیر تو ساحل کی سوچوں یہاں منصف بھی مجرم سا لگے ہے میں کس امید پر قاتل کی سوچوں کہاں آسان ہے خود کو سمجھنا بڑی مشکل سے اس مشکل کی سوچوں
safar Thahre to kuchh manzil ki sochun
ہر لمحہ بیگانہ ہے پر کسنے پہچانا ہے جسے موت سب کہتے ہیں دھڑکن کا رک جانا ہے میں کیا میرا میں بھی کیا کیول آب و دانا ہے دنیا سب کچھ سمجھ آئی بس خود کو سمجھانا ہے جھوٹی تاریخیں مت دیکھ جھوٹا آنا جانا ہے میں تجھ سے مایوس نہیں تو میرا افسانہ ہے جیون کی سچائی کیا ہر پل دھوکا کھانا ہے اس محفل سے کیا رشتہ رونا ہے نا گانا ہے
har lamha begaana hai
جدھر بھی دیکھو وہیں نظر میں تنہائی پھیلا گئی ہے پورے گھر میں تنہائی بھیڑ بہت ہے لیکن مجھ کو لگتا ہے صرف چلے گی ساتھ سفر میں تنہائی آنے والی پیڑھی کی قسمت دیکھو انہیں ملیں گے نگر نگر میں تنہائی پتے بھی ہلتے ہیں پر خاموشی سے ڈھونڈ رہی ہے ہوا شجر میں تنہائی من کا خالی پن خالی ہے کچھ اتنا دل بھی تنہا اور جگر میں تنہائی تنہائی سے ڈر جانے کا غم کیسا مشکل سے ملتی ہے گھر میں تنہائی
jidhar bhi dekho vahin nazar mein tanhaai
ندی کی ناؤ کی یا حوصلوں کی کہانی تو سناؤ دل جلوں کی جہاں پر راستہ گم ہو گیا تھا وہیں سے راہ نکلی منزلوں کی میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں سنی تھی چیخ میں نے گھائلوں کی سمندر کو نظر آئے نہ آئے اداسی کم نہیں ہے ساحلوں کی کبھی فرصت ملے تو پوچھ لینا بہت مشکل ہے باتیں مشکلوں کی
nadi ki naav ki yaa hauslon ki
کیوں شور مچاتے ہو بے کار میں پہلے سے جب جھوٹ ہی چھپتا ہے اخبار میں پہلے سے ہوتا ہے یہی سب کچھ سنسار میں پہلے سے بکتی ہے محبت بھی بازار میں پہلے سے ہم لوگ سمجھتے تھے کہ ہم ہیں یہاں اول کچھ لوگ چنے پائے دیوار میں پہلے سے بس ہاتھ سے چھونے پر محسوس تمہیں ہوگا سویا ہے کوئی دریا انگار میں پہلے سے پھیلا تو لہر بن کر آکاش کو چھو آیا قطرہ ہی سمندر تھا آکار میں پہلے سے دنیا کے سبھی پربت کیا روک سکے اس کو آواز ہی رہتی ہے رفتار میں پہلے سے حالات ہوا بن کر شعلے میں بدلتے ہیں اک آگ تو ہوتی ہے فنکار میں پہلے سے
kyon shor machaate ho be-kaar mein pahle se





