
Madhosh Bilgrami
Madhosh Bilgrami
Madhosh Bilgrami
Ghazalغزل
phir rahe hain yahaan vahaan tanhaa
پھر رہے ہیں یہاں وہاں تنہا آج لگتا ہے یہ جہاں تنہا گھر میں بازار میں ہزاروں میں قید ہیں ہم کہاں کہاں تنہا ڈھل گئی رات بجھ گئیں شمعیں رہ گئے ہم بھی نوحہ خواں تنہا میری آہٹ کا میری سانسوں کا منتظر ہے میرا مکاں تنہا سونی سونی سی اجنبی راہیں آرزوؤں کا کارواں تنہا چاند تاروں کی بھیڑ میں مدہوشؔ رو رہا ہے اک آسماں تنہا
husn ke pyaar ke sukh dukh ke taraane gum hain
حسن کے پیار کے سکھ دکھ کے ترانے گم ہیں وقت کی گود میں کیا کیا نہ خزانے گم ہیں دور تک غم کا دھواں ایک بھیانک سا سماں اب رکیں بھی تو کہاں سارے ٹھکانے گم ہیں کس کو معلوم ہے تاریخ کے تہہ خانوں میں کتنے خوابوں کے جہاں کتنے زمانے گم ہیں کوئی مے خانہ رہا نہ کوئی ویرانہ رہا دو ہی بس اپنے ٹھکانے تھے ٹھکانے گم ہیں ساز بھی روٹھ گئے تار بھی سب ٹوٹ گئے بحر خاموش میں مدہوشؔ ترانے گم ہیں
raah-e-vafaa mein girte sambhalte rahe miyaan
راہ وفا میں گرتے سنبھلتے رہے میاں تھکنے کے باوجود بھی چلتے رہے میاں اک عمر تیز دھوپ میں جلتے رہے میاں آئینہ خانے دل کے پگھلتے رہے میاں یہ شام کا دھندلکا یہ وحشت یہ خامشی تنہا بر آمدے میں ٹہلتے رہے میاں کچھ لوگ منزلوں سے بھی آگے نکل گئے اک ہم کہ اپنے ہاتھ ہی ملتے رہے میاں آئینہ جب بھی دیکھا ہے چہرہ تھا اک نیا ہم جانے کتنے سانچوں میں ڈھلتے رہے میاں صحرا تھے اتنے سرد کہ یخ ہو گیا وجود اترے سمندروں میں تو جلتے رہے میاں خوابوں کی بستیوں سے بڑی تمکنت کے ساتھ پل پل کئی جنازے نکلتے رہے میاں دریا لہو کے یاس کے اشکوں کے آگ کے ہر گوشۂ زمیں سے ابلتے رہے میاں دھارا نہ روکا جا سکا تاریخ کا کبھی حالات زندگی کے بدلتے رہے میاں
ik nai subh kaa paighaam liye phirte hain
اک نئی صبح کا پیغام لئے پھرتے ہیں ہم محبت سے بھرا جام لئے پھرتے ہیں اپنے دکھ سکھ کو سمجھتے ہیں مقدر کا قصور ہائے وہ لوگ جو اوہام لئے پھرتے ہیں کل پہنچ جائیں گے پھر صبح کے دروازے تک کیا ہوا آج اگر شام لئے پھرتے ہیں کیسے انساں ہیں کہ انساں سے سروکار نہیں چند ٹوٹے ہوئے اصنام لئے پھرتے ہیں تھرتھراتے سے سمٹتے سے یہ مبہم سائے ڈوبتی شام کا انجام لئے پھرتے ہیں





