M
Madhu Gupta
Madhu Gupta
Madhu Gupta
poet
2Ghazal
Ghazalغزل
غزل · Ghazal
باہر رہ یا گھر میں رہ میرے دل بنجر میں رہ صحرا جنگل میں مت جا نیند مرے بستر میں رہ منزل منزل دھوکا ہے میرے پاؤں سفر میں رہ باہر جتنا گھوم کے آ کچھ اپنے اندر میں رہ حد سے باہر پاؤں نہ دے اپنی ہی چادر میں رہ اپنا جینا مرنا کیا قاتل میرے خبر میں رہ جیسے دن جو موسم ہو تو ہر وقت نظر میں رہ
baahar rah yaa ghar mein rah
غزل · Ghazal
اپنی صورت پہ بھی نظر رکھئے آئنہ ہاتھ میں اگر رکھئے آپ پر جاں نثار کر دیں سب بات بس ایسی پر اثر رکھئے اک نا اک دن یہ کام آئے گا ہاتھ میں اپنے کچھ ہنر رکھئے پیار کوئی ہنسی یا کھیل نہیں آپ پتھر سا پھر جگر رکھئے چھاؤں ان کی بڑی ہی شیتل ہے گھر میں بوڑھا بھی اک شجر رکھئے
apni surat pe bhi nazar rakhiye





