SHAWORDS
Madhukar Shaidai

Madhukar Shaidai

Madhukar Shaidai

Madhukar Shaidai

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کرتا غیروں کے تعمیر گھر آدمی کر کے فٹ پاتھ پر خود بسر آدمی اس قدر آج بے کار انساں ہوا بھیڑ میں آ رہا اب نظر آدمی ایک طوفاں میں کتنے مکاں ڈھ گئے مشکلوں سے بنا پاتا گھر آدمی عیب غیروں کے ہے ڈھونڈنے میں لگا اپنے عیبوں سے ہے بے خبر آدمی آج چھوٹے بڑوں کا نہیں ہے ادب اپنی تہذیب سے بے اثر آدمی مادر ہند پر جو بھی قرباں ہوا مر کے بھی ہو گیا وہ امر آدمی سائے میں جس کے انسان زندہ رہے اس لئے ہے لگاتا شجر آدمی

kartaa ghairon ke taa'mir ghar aadmi

غزل · Ghazal

پائی ہے تلخیوں سے یہ سرشار زندگی ہر شخص چاہتا ہے چمکدار زندگی جینے کا حق ہمارا ہے جینا ہے شان سے کتنی بھلے ہو دوستوں نادار زندگی اتنا یقین کر لے تو سچ کہہ رہا ہوں میں مدت سے ہے یہ تیری طلب گار زندگی جیتی کبھی یہ مرتی ہے الفت کی راہ میں کرتی ہے روز موت کا دیدار زندگی مرنا ہے لازمی یہاں ہر شخص کے لیے کس کی رہی ہے دوست طرفدار زندگی چاہا ہے اتنا آپ کو خود کو بھلا دیا چاہت میں بن گئی یہ قلم کار زندگی

paai hai talkhiyon se ye sarshaar zindagi

غزل · Ghazal

کمایا لٹایا بچایا نہیں مگر ایک پیسہ گنوایا نہیں کبھی کوئی خوابوں میں آیا نہیں مقدر مرا جگمگایا نہیں کرم یہ رہا دوستوں کا مرے کبھی ایک پل مسکرایا نہیں وہ چاہت وہ حسرت وہ وعدے وفا جنہیں آج بھی بھول پایا نہیں عیاں زندگی کا ہر ایک پرشٹھ ہے زمانہ سے ہم نے چھپایا نہیں کٹا ڈالے سر ہیں وطن کے لیے مگر سر کو اپنے جھکایا نہیں ہے لہروں کا احسان مدھوکرؔ بہت سمندر ڈبا مجھ کو پایا نہیں

kamaayaa luTaayaa bachaayaa nahin

Similar Poets