
Madhurima Singh
Madhurima Singh
Madhurima Singh
Ghazalغزل
میری خاطر کوش بھاگیہ کا گھٹ جاتا ہے دل کی ہر چٹھی کا کونا پھٹ جاتا ہے چنچل شوخ ہوائیں سانکل کھٹکاتی ہیں دھیان ہمارا تیری اور سے ہٹ جاتا ہے ہم نے سکھ سپنوں کے گہرے گھاؤ سیے ہیں اگر پاٹنا چاہو ساگر پٹ جاتا ہے دھیان سے پکڑو بانس زندگی لچک رہی ہے خوابوں کی رسی پر من کا نٹ جاتا ہے عمر قید سانسوں کی ہے یہ مایا نگری کھٹتے کھٹتے سارا جیون کھٹ جاتا ہے لکھ لکھ کر میں نام تمہارا مٹا رہی ہوں ہلکا دھبا رہتا پنا پھٹ جاتا ہے
meri khaatir kosh bhaagye kaa ghaT jaataa hai
کچھ سفر کا غبار جیسا تھا سانسوں پر اک ادھار جیسا تھا یک بیک اس کا ایسے چپ ہونا چیخ تھی یا پکار جیسا تھا جو کہا تم نے اور سنا میں نے عمر بھر اک خمار جیسا تھا نام جو ہونٹ پر نہیں آیا دھڑکنوں میں شمار جیسا تھا نام تیرا لکھا تھا انگلی سے پر شلا پر ابھار جیسا تھا نیم سے چاند چھن کے بکھرا تھا چاندنی کو بخار جیسا تھا چوٹ کھا کے بھی گنگناتا رہا میرا دل بھی ستار جیسا تھا تیری چاہت کا جب بھرم ٹوٹا کچھ نشے کے اتار جیسا تھا یادوں کے سب کگار ڈھہتے گئے وقت بھی تیز دھار جیسا تھا دل پہ اک بوجھ لے کے جیتی رہی جو گناہوں کے بھار جیسا تھا
kuchh safar kaa ghubaar jaisaa thaa
میرے اندر جیسے کوئی ٹھنڈا صحرا جلتا ہے آہٹ آہٹ یوں لگتا ہے مجھ میں کوئی چلتا ہے میں نے تو دہری پر بیٹھے بیٹھے رات گزاری ہے میرے بستر پر پھر تنہا کروٹ کون بدلتا ہے آگ ہون کی تیز ہے اتنی سارے منتر بھلا دے گی اس ویدی پر سیدھا والا ہاتھ ہمیشہ جلتا ہے اس نگری میں کانچ کے ٹکڑے پتھر کانٹے بکھرے ہیں دھیان سے چلنا اس نگری میں اکثر پاؤں پھسلتا ہے تیز آنچ میں جل کر چوڑی سترنگی بن جاتی ہے میری سانسوں کا شیشہ بھی کتنے رنگ بدلتا ہے وہ چاہے تو ہاتھ بڑھا کر گھر کے اندر لے جائے اس کے در پر گرنے والا خود سے کہاں سنبھلتا ہے چاند کے آنسو شبنم بن کر دھرتی کے سینے پر ہیں سورج کی آہوں سے جیسے برف کا دریا گلتا ہے
mere andar jaise koi ThanDaa sahraa jaltaa hai
پھر یادوں کا موسم آیا کئی برس کے بعد جانے کیوں درپن شرمایا کئی برس کے بعد دل سے کتنا دور رہا تھا سکھ سپنوں کا گاؤں آنکھوں میں سپنا انکرایا کئی برس کے بعد میٹھی میٹھی خوشبو والی سانسیں آتی ہیں بگیا نے مہوا ٹپکایا کئی برس کے بعد تیز دھوپ میں تپتی راہیں پیاس تھی ننگے پاؤں نینوں نے امرت برسایا کئی برس کے بعد سانسوں میں بیلا مہکا اور بالوں میں جوہی جیسے کوئی پاہن آیا کئی برس کے بعد آم کی چٹنی دھلی دال اور روٹی گرم گرم اماں نے چولہا سلگایا کئی برس کے بعد
phir yaadon kaa mausam aayaa kai baras ke baad
ارادے ہی پیروں کے چھالے ہوئے ہیں سفر حادثوں کے حوالے ہوئے ہیں تمنا بہت تھی خوشی مل نہ پائی ہون میں جلے ہاتھ کالے ہوئے ہیں کوئی غم نہیں اپنے جلنے کا ہم کو تری راہ میں تو اجالے ہوئے ہیں نہ ٹوٹے کوئی خواب پلکوں سے گر کر چھلکتے ہیں نین ہم سنبھالے ہوئے ہیں ابھی تک ہے سانسوں میں خوشبو گلوں کی چمن سے کبھی کے نکالے ہوئے ہیں گرے جانے کس پہلو آ کر زمیں پر یہ جیون کا سکہ اچھالے ہوئے ہیں
iraade hi pairon ke chhaale hue hain
بہت ہیں زندگی میں غم سنو خاموش کیوں ہو تم تمہارے روبرو ہیں ہم سنو خاموش کیوں ہو تم تمہاری خامشی پر بس ہماری جان جاتی ہے ہماری زندگی ہے کم سنو خاموش کیوں ہو تم کہا تھا تم نے آنکھوں میں یہ دنیا بھول جاؤ گے تمہیں کیا خوف ہے ہر دم سنو خاموش کیوں ہو تم ہمیں دے دو اداسی آنکھ میں کب تک چھپاؤ گے بنا دیں گے اسے شبنم سنو خاموش کیوں ہو تم سجا کر چاند کا گجرا یہ پگلی رات آتی ہے بکھرتی سانس کی سرگم سنو خاموش کیوں ہو تم لہراتے گل مہر پر یہ اترتی سانجھ ٹھہری ہے بدل جائے نہ یہ موسم سنو خاموش کیوں ہو تم فسانہ دل کا کہہ لو آج جانے کب ملیں ہم تم چراغوں میں ابھی ہے دم سنو خاموش کیوں ہو تم
bahut hain zindagi mein gham suno khaamosh kyon ho tum





