Maftun Aurangabadi
Maftun Aurangabadi
Maftun Aurangabadi
Ghazalغزل
جام مئے کی ہے جہاں چاہ وہاں ہے شیشہ کس کا دل خواہ نہیں جان جہاں ہے شیشہ آتش و خوں شدہ وہ گریہ کناں ہے شیشہ خود بشکل دل وہ منزل گہہ جاں ہے شیشہ اس کے دل میں ہے کہ دے اس دل نازک کو شکست دیکھئے کیا ہو وہاں سنگ یہاں ہے شیشہ جوش تمکین یہ کس کا ہے کہ مئے خانے میں جام ہی مغبچہ و پیر مغاں ہے شیشہ منہ لگا اوس کے تئیں کون ہو رسوا مفتوںؔ مثل نے صورت فریاد و فغاں ہے شیشہ
جام مئے کی ہے جہاں چاہ وہاں ہے شیشہ
جو دیکھے چشم سیہ مست خواب کی صورت نہ دیکھی پھر کبھی جام شراب کی صورت فجر اٹھا سو ہی آنکھیں ہیں آسماں کی طرف کہ کب نظر پڑے اس آفتاب کی صورت وہ جور ناز وہ چین جبیں وہ چور نگاہ پھرے ہے نظروں میں خانہ خراب کی صورت نہ ہو کہ تجھ سے رکھیں ہم امید راست رویے فلک تو آپ ہی ہے انقلاب کی صورت قدم زمیں پہ دوشالے کا چنٹ لپٹی چال کبھی تو دید بدید او نقاب کی صورت عجب نہیں ہے اگر وہاں سے نامہ بر نہ پھرے اور آگے ایسی ہے کچھ بے جواب کی صورت
جو دیکھے چشم سیہ مست خواب کی صورت
آئینہ لے کہ ابروئے خمدار دیکھنا لازم ہے چاند دیکھ کہ تروار دیکھنا کیجو نہ اوسکے حسن کا اظہار دیکھنا آئینہ کوئی ہو پس دیوار دیکھنا کچھ بار غم تو اس دل نازک پہ ہے مرے تکیہ نہ کیجو دشت میں برکہار دیکھنا ہر صبح اٹھ کہ جاؤں چمن میں سو کیا حصول یارو بہار گوشۂ دستار دیکھنا کل نصف شب کے تئیں دل بیتاب کہہ اٹھا اس وقت چل کہ جلوۂ دلدار دیکھنا
آئینہ لے کہ ابروئے خمدار دیکھنا





