Mahboob Dehlavi
saamne aao ki main chehra-e-zebaa dekhun
سامنے آؤ کہ میں چہرۂ زیبا دیکھوں اور اس آئینے میں عکس پھر اپنا دیکھوں تم ہی منزل ہو تم ہی گوہر مقصود مرا دیکھ کر تم کو میں کیا اور تماشا دیکھوں تم ہی بتلاؤ کہ اس کار گہ ہستی میں کیا نہ دیکھوں میں اگر دیکھوں تو کیا کیا دیکھوں تجھ کو یہ ناز کوئی پا نہ سکے گا ہرگز مجھ کو یہ ضد کہ ترا نقش کف پا دیکھوں تو نے چاہا تو بہت گردش ایام کہ میں خود تماشا بنوں اپنا ہی تماشا دیکھوں کاش اس زیست میں وہ وقت بھی آئے محبوبؔ چار سو دہر میں ایماں کا اجالا دیکھوں