Mahboob Mashshar
Mahboob Mashshar
Mahboob Mashshar
Ghazalغزل
دیکھا تھا ان کو میں نے جو اپنی نظر سے آج اللہ جانے ہو گئے غائب کدھر سے آج کل بن بلائے آئے تھے یوں میرے گھر کو وہ خوشبو سی پھوٹنے لگی دیوار و در سے آج گویا یہ ہے نشانیٔ بربادیٔ جہاں انسان بات کرتا ہے شمس و قمر سے آج
dekhaa thaa un ko main ne jo apni nazar se aaj
انسان بنتا جاتا ہے حیوان آج کل پوشیدہ جس کے دل میں ہے شیطان آج کل لاتا ہے شوق سے وہ مصیبت خرید کے کرتا ہے اپنی موت کا سامان آج کل دہشت کے سائے میں وہ بجھاتا ہے اپنی پیاس کر کر کے قتل لیتا ہے وہ جان آج کل اٹھتی ہے اب سماج سے تفریق رنگ و بو اڑتے ہیں آسمان پہ دہقان آج کل یہ دور چل رہا ہے موبائل کا اس طرح مردوں سے بات ہو گئی آسان آج کل
insaan bantaa jaataa hai haivaan aaj-kal
شب کی تنہائی میں ان کو یاد کر لیتا ہوں میں ہے زباں خاموش پر فریاد کر لیتا ہوں میں چودھویں شب کا قمر جب چرخ پر ہنسنے لگے شومیٔ قسمت کو پھر سے یاد کر لیتا ہوں میں کچھ ہجوم یاد سے کچھ آرزوئے دید سے زندگی کو اس طرح برباد کر لیتا ہوں میں چشم نم نے سوز دل کو کر دیا ہے آشکار یہ نہیں شکوہ صنم فریاد کر لیتا ہوں میں آج تک برباد تھا محشرؔ ہے اب اس کو سکوں دل کی ویرانی کو خود آباد کر لیتا ہوں میں
shab ki tanhaai mein un ko yaad kar letaa huun main





