Mahendra Singh Barq
وہ دل بھی ہمارا اڑائے ہوئے ہیں نگاہیں بھی ہم سے چرائے ہوئے ہیں جھکائے ہوئے ہیں یہ نظریں جو ہم سے قیامت کے فتنے اٹھائے ہوئے ہیں گلا ہے مرے شوق جلوہ کو ان سے وہ جلوے کو پردہ بنائے ہوئے ہیں مجھے آج یوں ان کی یاد آ ہی ہے مرے گھر وہ جیسے خود آئے ہوئے ہیں خدائی پہ ہے اس قدر ناز جن کو خدا وہ ہمارے بنائے ہوئے ہیں یقیں ہی نہیں آ رہا برقؔ مجھ کو مرے گھر میں وہ آج آئے ہوئے ہیں
vo dil bhi hamaaraa uDaae hue hain