Mahfooz Asar
Mahfooz Asar
Mahfooz Asar
Ghazalغزل
یہ کرم درویش نے اک پل میں مجھ پر کر دیا ملتفت نظروں سے دیکھا اور تونگر کر دیا خوش مزاجی تو مری فطرت میں شامل تھی مگر اس کی باتوں نے مجھے آپے سے باہر کر دیا اب تو حسرت سے مجھے تکنے لگیں اونچائیاں خاکساری نے مری مجھ کو قد آور کر دیا اب تو بس قسمت میں لکھی ہے بیابانوں کی خاک جستجو نے اس کی مجھ کو گھر سے بے گھر کر دیا غیر کا شکوہ گلہ کس سے کروں اب میں اثرؔ میرے اپنوں ہی نے میرا جینا دوبھر کر دیا
ye karam darvesh ne ik pal mein mujh par kar diyaa
تلاش یار میں گزری ہے زندگی تنہا بھٹک رہا ہوں اندھیروں میں آج بھی تنہا وہاں تو سانس بھی لینا عذاب لگتا ہے سسک رہی ہو جہاں کوئی زندگی تنہا اکیلا میں ہی نہیں ہوں اسیر ظلمت غم بجھا بجھا ہے اندھیروں میں چاند بھی تنہا تمام چاند ستاروں کا نور ایک طرف اور ایک سمت ہے سورج کی روشنی تنہا مرے خلوص میں شاید کمی ہے کچھ ورنہ مجھی سے کرتے ہیں کیوں لوگ دشمنی تنہا کسی کی زلف کا سایہ تلاش کر ورنہ اثرؔ گزر نہ سکے گی یہ زندگی تنہا
talaash-e-yaar mein guzri hai zindagi tanhaa
یہ نقش ایسا نہیں ہے جسے مٹاؤں میں مجھے بتا کہ تجھے کیسے بھول جاؤں میں کوئی لکیر ہی روشن نہیں ہتھیلی پر نجومیوں کو بھلا ہاتھ کیا دکھاؤں میں بجھا بجھا سا نظر آ رہا ہے ہر کوئی فسانۂ غم ہستی کسے سناؤں میں یقیں کرو کہ مری جیت پھر یقینی ہے مگر کہو تو یہ بازی بھی ہار جاؤں میں نظر کے سامنے منزل کے راستے ہیں بہت یہ سوچتا ہوں قدم کس طرف بڑھاؤں میں یہ بات سچ ہے کہ بنیاد ہوں عمارت کی یہ اور بات کسی کو نظر نہ آؤں میں غم زمانہ سے فرصت کہاں اثرؔ صاحب دعا کو ہاتھ جو اپنے لئے اٹھاؤں میں
ye naqsh aisaa nahin hai jise miTaaun main
شکوہ بن کر فغاں سے اٹھتا ہے شعلۂ غم زباں سے اٹھتا ہے پھر جلا آشیاں کوئی شاید پھر دھواں گلستاں سے اٹھتا ہے ٹوٹ جاتا ہے سلسلہ لے کا جب کوئی درمیاں سے اٹھتا ہے ٹھہرے پانی میں کچھ نہیں ہوتا شور آب رواں سے اٹھتا ہے سر میں سودائے بندگی ہے اثرؔ کون اس آستاں سے اٹھتا ہے
shikva ban kar fughaan se uThtaa hai
نمائشوں کا گزر کب رہ نجات میں ہے عبادتوں کا مزہ تو اندھیری رات میں ہے بڑھے جو تیرگیٔ شب تو اور میں چمکوں چمک ستاروں کے جیسی ہی میری ذات میں ہے بچھڑنے والے کو میں اس لیے نہیں بھولا وہ آ بھی سکتا ہے یہ بھی توقعات میں ہے ہے اعتراف کہ تعریف کر رہے ہو تم حسد کا پہلو بھی لیکن تمہاری بات میں ہے ڈبوئے گا ہمیں سیل ستم اثرؔ کیسے زمانے بھر کی دعا تو ہمارے ساتھ میں ہے
numaaishon kaa guzar kab rah-e-najaat mein hai
سچائیوں سے اس کو بھی انکار ہو گیا اک شخص آج اور گنہ گار ہو گیا وہ چارہ ساز جس پہ زمانے کو ناز تھا مجھ کو اداس دیکھ کے بیمار ہو گیا قاتل نے ایک شخص کو یوں قتل کر دیا پہچاننا بھی لاش کو دشوار ہو گیا جانیں فساد میں تو بہت سی گئیں مگر کیوں ایک نام سرخیٔ اخبار ہو گیا پتھر سمجھ رہے تھے اثر جس کو لوگ وہ ترشا گیا تو رونق بازار ہو گیا
sachchaaiyon se us ko bhi inkaar ho gayaa





