Mahfooz Kaifi
Mahfooz Kaifi
Mahfooz Kaifi
Ghazalغزل
حادثوں سے کھیلنا میرے لیے مشکل نہ تھا اے مسیح فتنہ گر لیکن سکون دل نہ تھا جس میں آئے تھے کفن بردوش چہرے شوق سے زندگی افسوس میں اس بزم میں شامل نہ تھا گفتگو کرتے تھے وہ بھی شیش محلوں کی وہاں جن کو رہنے کے لئے ٹوٹا مکاں حاصل نہ تھا مجھ پہ بھی الزام لوگوں نے لگایا قتل کا قاتلوں کے شہر میں حالانکہ میں قاتل نہ تھا وقت کا رہبر نما قزاق تھا ہر آئینہ سچ ہے وہ کیفیؔ تمہارے شہر کا عامل نہ تھا
haadson se khelnaa mere liye mushkil na thaa
حادثہ قہر و غضب تیغ و تبر لے لینا موت کا شہر ہے جینے کا ہنر لے لینا کون جانے کہ شب تار ڈھلے یا نہ ڈھلے دل کے زخموں ہی سے تسکین سحر لے لینا تنہا اس شہر میں نکلو گے تو لٹ جاؤ گے کون ہمدرد کوئی اہل سفر لے لینا میرے کردار کو آئینہ دکھانے والو جائزہ اپنے بھی دامن کا مگر لے لینا آج لے آئے گا کیفیؔ وہ اثاثہ غم کا ایک نعمت ہے جو بے خوف و خطر لے لینا
haadisa qahr-o-ghazab tegh-o-tabar le lenaa





