
Mahir Aarwi
Mahir Aarwi
Mahir Aarwi
Ghazalغزل
qaabil-e-qadr to hai vaa dar-e-zindaan honaa
قابل قدر تو ہے وا در زنداں ہونا اس پہ طرہ تری زلفوں کا پریشاں ہونا سات پردوں میں چھپا جوہر تابان جمال اس پہ بھی سامنے آئینے کا حیراں ہونا کتنے ایوان فلک بام زمیں بوس ہوئے کیا قیامت ہے دل زار کا نالاں ہونا ہم نے مانا کہ یہ ہے آب بقا کا منبع پہلے ثابت بھی تو ہو چشمۂ حیواں ہونا لاج رکھنی ہے یہاں رہنے کی جانے والو لالہ و گل میں کبھی کچھ تو نمایاں ہونا لایا ایمان کہ ماہرؔ بھی ہے بے شک شاعر آج ہی دیکھا ہے کافر کا مسلماں ہونا
dar aap kaa ham chhoD ke ab jaaein kahaan aur
در آپ کا ہم چھوڑ کے اب جائیں کہاں اور ہے ترک تعلق میں خود اپنا ہی زیاں اور آسان اٹھانا نہ تھا کچھ بار خلافت جز میرے اٹھاتا بھی کوئی بار گراں اور دل ہے کہ کوئی چوب تر و تازہ و شاداب جب آگ سلگتی ہے تو اٹھتا ہے دھواں اور ہے فصل بہاراں میں چمن شعلہ بداماں اب دیکھیے کیا ہوتا ہے انداز خزاں اور آزادیٔ گفتار و خیالات کا اظہار بربادی کے اب اس سے بھی بڑھ کے ہیں نشاں اور جب شیشۂ دل پر مرے زنگار ہے آتا کیا کہئے چمکتا ہے مرا داغ نہاں اور میں شاخ ثمر دار کے مانند ہوں ماہرؔ ملتا ہوں کسی سے تو وہ کرتا ہے گماں اور
kab tak umid-e-khaam pe baiThaa kare koi
کب تک امید خام پہ بیٹھا کرے کوئی کچھ کہنے سے بھی پہلے تو سوچا کرے کوئی قندیل بجھ رہی ہے تمنائے زیست کی اب لاکھ لو پہ لو نہ بڑھایا کرے کوئی گر ہو سکے نہ دل ہی منور تو اے ندیمؔ کیا فائدہ کہ کعبہ کو جایا کرے کوئی کچھ بندگی کی لاج تو رکھ لے مرے خدا میں بندہ تیرا اور تماشا کرے کوئی ماہرؔ کو آرزو بت خود سر کی ہو نہ کیوں دیر و حرم میں اب کسے سجدہ کرے کوئی
taabish-e-dandaan se un ke rishta-e-gauhar khulaa
تابش دنداں سے ان کے رشتۂ گوہر کھلا آسماں پر جلوۂ رخسار سے اختر کھلا سامنے بیٹھے تھے وہ خلوت تھی اور کوئی نہ تھا ایسے عالم میں ہمارے شوق کا دفتر کھلا منکر اس بت کے جو ہیں پاتے ہیں وہ اچھی سزا چومتے ہیں جا کے کعبہ میں وہی پتھر کھلا میں شمیم نکہت گل کا کہاں پاؤں دماغ سامنے یوں تو نگاہوں کے ہے اک منظر کھلا جب چلی اوروں پہ کیا بے آب ہو کر رہ گئی میری گردن پر چلی تب تیغ کا جوہر کھلا اک طلسم آب و گل ہی تو ہے ساری زندگی راز یہ کوئی بتائے جیتے جی کس پر کھلا وحشت اہل جنوں اس درجہ اب معدوم ہے رات دن رہنے لگا زنداں کا اب تو در کھلا بن گئی کنجی زمین شعر غالب کیا کہوں یعنی ماہرؔ آج یہ قفل سکوت آخر کھلا
mohabbat bahr-e-aatish hai na utraa jaae hai mujh se
محبت بحر آتش ہے نہ اترا جائے ہے مجھ سے مگر دریا میں رہ کر بھی نہ ترسا جائے ہے مجھ سے طبیعت ہی کہاں مانے ہے بے تم سے ملے ہمدم یہ وقت لطف تنہا کب گزارا جائے ہے مجھ سے تعلق بھی عجب رشتہ ہے دو دل جس سے ملتے ہیں نہ جوڑا جائے ہے اس سے نہ توڑا جائے ہے مجھ سے میں ہلتے دیکھتا ہوں یوں تو دونوں لب کبھی اس کے مگر آہستہ ایسا کچھ نہ سمجھا جائے ہے مجھ سے عتاب اس آفت جاں کا ستم اس فتنہ پیکر کا اگر ہے دیدنی پھر کیوں نہ دیکھا جائے ہے مجھ سے ضعیفی آ گئی ایسی کہ ماہر کیا کہوں تم سے اگر بیٹھا کبھی تو پھر نہ اٹھا جائے ہے مجھ سے
aisaa nahin koi ki shanaasaa kahein jise
ایسا نہیں کوئی کہ شناسا کہیں جسے ملتا کہاں ہے کوئی ہم اپنا کہیں جسے اک مرکز خیال ہے دنیا کہیں جسے کوئی نظر تو آئے کہ تم سا کہیں جسے سایہ بھی بھاگتا ہے جہاں اپنی ذات سے وہ ہے سراب دشت تمنا کہیں جسے زلف دراز بن کے الجھتی رہی مدام اک تار عنکبوت ہے دنیا کہیں جسے ماہرؔ وہی نہ کہتے ہیں سب جس کو آدمی ہیں خوبیاں ہی کیا کہ ہم اچھا کہیں جسے





