Mahir Mansoor
nazar-fareb nazaara abhi nigaah mein hai
نظر فریب نظارہ ابھی نگاہ میں ہے کہ کوئی خواب نما جسم میری راہ میں ہے تمام عمر کی آہوں کا ہے دھواں جس میں وہ ایک آتشیں لمحہ دل تباہ میں ہے وہی ہے آج بھی احساس بے اماں ہوں میں مرا وجود اگرچہ تری پناہ میں ہے ہر ایک سمت سے پتھر برس رہے ہیں مگر تمہارا دست کرم بھی مری نگاہ میں ہے وہی ہے آج بھی کیفیت پشیمانی نہ جانے کون سا جذبہ مرے گناہ میں ہے جلا نہ دے کہیں دنیا کو خوف ہے ماہرؔ وہ ایک شعلہ جو کب سے مری کراہ میں ہے