SHAWORDS
Mahir Seoharavi

Mahir Seoharavi

Mahir Seoharavi

Mahir Seoharavi

poet
15Ghazal

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

marhale ziist ke aasaan hue jaate hain

مرحلے زیست کے آسان ہوئے جاتے ہیں غم ہی اب غم کے نگہبان ہوئے جاتے ہیں جان و دل عشق میں قربان ہوئے جاتے ہیں ہم کسی اور کی پہچان ہوئے جاتے ہیں اس کے ہونٹوں پہ مرا نام تو آیا بھی نہیں جانے کیوں لوگ پریشان ہوئے جاتے ہیں آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑنا ہوگا آج پھر ہجر کے امکان ہوئے جاتے ہیں تیری پلکوں پہ یہ ٹھہرے ہوئے آنسو ماہرؔ عظمت ضبط کی پہچان ہوئے جاتے ہیں

غزل · Ghazal

apnaa jise samajhtaa thaa vo bhi miraa na thaa

اپنا جسے سمجھتا تھا وہ بھی مرا نہ تھا یہ ایسا حادثہ تھا جو دیکھا سنا نہ تھا کتنی شدید دھوپ ہے احساس اب ہوا تھا سر پہ سائبان تو کچھ بھی پتہ نہ تھا واللہ حسن شوق کہ مکتوب یار میں وہ بھی پڑھا ہے میں نے جو اس نے لکھا نہ تھا موضوع غم پہ کرتا تھا دن رات گفتگو وہ شخص جس کا غم سے کوئی واسطہ نہ تھا طوفاں کا سینہ چیر کے ساحل پہ آ گئیں وہ کشتیاں بھی جن کا کوئی ناخدا نہ تھا دن رات جن کو پانے کی کرتے تھے جستجو وہ مل گئے تو ہم کو ہمارا پتہ نہ تھا مقبول کیسے ہوتیں یہ رسمی عبادتیں سر ہی جھکا تھا سجدے میں دل تو جھکا نہ تھا

غزل · Ghazal

miraa afsaana-e-gham zikr ke qaabil nahin hotaa

مرا افسانۂ غم ذکر کے قابل نہیں ہوتا تغافل آپ کا اس میں اگر شامل نہیں ہوتا نہ آئے اشک پلکوں تک یہ اچھا ہی ہوا ورنہ چلا جاتا بھرم بھی اور کچھ حاصل نہیں ہوتا مزہ طوفاں سے ٹکرانے کا جو معلوم ہے مجھ کو اسی خاطر تو میں منت کش ساحل نہیں ہوتا ہماری ہی خطائیں راستہ ہموار کرتی ہیں عذاب آسمانی بے سبب نازل نہیں ہوتا بدل دی تو نے خو اپنی چلو یہ مان لیتے ہیں ترے وعدے پہ کیوں لیکن یقیں کامل نہیں ہوتا میں اس کی کج ادائی کو نظر انداز کرتا ہوں میں اپنے فرض سے یارو کبھی غافل نہیں ہوتا نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہوں میں ماہرؔ غزل کہہ کر بھی اب مجھ کو سکوں حاصل نہیں ہوتا

غزل · Ghazal

miraa ehsaas mujh ko be-khabar hone nahin detaa

مرا احساس مجھ کو بے خبر ہونے نہیں دیتا کبھی تنہا مجھے یہ ہم سفر ہونے نہیں دیتا کھٹکتی ہے جسے کانٹے کی صورت داستاں میری وہی اس داستاں کو مختصر ہونے نہیں دیتا چھپا کر غم کو ہونٹوں پر ہمارا یہ ہنسی لانا ہمارے غم سے تم کو باخبر ہونے نہیں دیتا صف اغیار میں شامل ہے اپنا ہی کوئی یارو ہمارے وار کو جو کارگر ہونے نہیں دیتا مخالف فصل کا تو باغباں ہرگز نہیں ماہرؔ نئی شاخوں کو لیکن با ثمر ہونے نہیں دیتا

غزل · Ghazal

hudud-e-zabt se aage bhi jaa nahin saktaa

حدود ضبط سے آگے بھی جا نہیں سکتا مگر جو گزری ہے مجھ پر بتا نہیں سکتا ترے وجود کو بخشی ہے دلکشی میں نے بچھڑ کے مجھ سے تو خود کو بھی پا نہیں سکتا ہزاروں تیر تو ان کی کماں سے آئے ہیں زباں پہ نام بھی جن کا میں لا نہیں سکتا اسی کو لوگ مرا ہم سفر سمجھتے ہیں جو دو قدم بھی مرے ساتھ آ نہیں سکتا مرے وجود میں پیوست ہیں تری یادیں ترا خیال مرے دل سے جا نہیں سکتا جو زخم تم نے دیئے تھے وہی ہرے ہیں ابھی میں اور کوئی نیا زخم کھا نہیں سکتا میں اپنے حال پہ اس درجہ ہنس چکا ماہرؔ ترا لطیفہ بھی مجھ کو ہنسا نہیں سکتا

غزل · Ghazal

vo jiine kaa behtar hunar jaante hain

وہ جینے کا بہتر ہنر جانتے ہیں جدا تن سے اپنا جو سر جانتے ہیں اندھیرا حدوں سے گزرنے لگا ہے بہت جلد ہوگی سحر جانتے ہیں انہیں قتل کرنے کی دیتا ہے دھمکی جو مقتل کو بھی اپنا گھر جانتے ہیں مسافت سے اپنی خبردار ہیں ہم کہاں ختم ہوگا سفر جانتے ہیں جو سازش رہی رہزن و راہبر میں زباں پر نہ لائیں مگر جانتے ہیں جو رکھتے ہیں پختہ ارادے وہ ماہرؔ حوادث کو رخت سفر جانتے ہیں

Similar Poets