Mahir Sivharvi
لائق دستار آخر کوئی سر ہونا ہی تھا اک نہ اک دن تو یہ قصہ مختصر ہونا ہی تھا دیکھ کر اشک ندامت آ گیا رحمت کو جوش اب تو میری ہر خطا کو در گزر ہونا ہی تھا چشم پر نم تھی نہ میرے ہونٹوں پر شکوہ گلہ میرے غم سے ہر کسی کو بے خبر ہونا ہی تھا انقلاب وقت کا پرچم تھا میرے ہاتھ میں زینت دار و رسن تو میرا سر ہونا ہی تھا داستاں میری زباں سے سن رہے تھے اپنی لوگ میرا ہر حملہ یقیناً کارگر ہونا ہی تھا اپنی بے نوری پہ نرگس کب تلک روتی بھلا اک نہ اک دن تو چمن میں دیدہ ور ہونا ہی تھا صحبت اہل ہنر میں عمر گزری ہے تمام فکر ماہرؔ کو کبھی تو معتبر ہونا ہی تھا
laaeq-e-dastaar aakhir koi sar honaa hi thaa