SHAWORDS
Mahmood Alam

Mahmood Alam

Mahmood Alam

Mahmood Alam

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

چیختے ہیں دیار راتوں میں لے لو راہ فرار راتوں میں روز ہوتا ہے مقبرہ کمرہ اور بستر مزار راتوں میں دھڑکنیں گونجتی ہیں سینے میں بڑھتا ہے اضطرار راتوں میں میرے شیون پہ مسکراتا ہے میرا پروردگار راتوں میں تیرگی میرے دل میں خنجر سی ہو رہی آر پار راتوں میں نیند ہے لیس زیر کرنے کو اور میں ہوشیار راتوں میں میرے رونے سے سب ملک مجھ پر ہو رہیں جاں نثار راتوں میں بین کرتی ہیں حوریں سرہانے میرے گرد مزار راتوں میں کوئی تیری یہاں نہیں سنتا اپنے رب کو پکار راتوں میں

chikhte hain dayaar raaton mein

غزل · Ghazal

نہ کوئی حرف دعا عرض تمنا بھی نہیں اب نہ مولا ہے میرا اور میں بندہ بھی نہیں میرے چہرے سے ملا کرتی ہے اس کی صورت اس کی صورت سا مرے پاس تو چہرہ بھی نہیں رب ارنی کا یہ حاصل رہا بینائی گئی ایسے دیکھا کہ اسے ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں پہلے فرعون مرا بعد میں موسیٰ بھی مرے ایک مر جاتا ہے اک موت سے مرتا بھی نہیں ذات واحد ہے اگر وہ تو میں فرد وحدت اس میں اور مجھ میں کوئی فرق زیادہ بھی نہیں یہ تو اک کھیل ہے اور کھیل بلا کا عالمؔ لیلیٰ کا قیس نہیں قیس کی لیلیٰ بھی نہیں

na koi harf-e-duaa arz-e-tamannaa bhi nahin

غزل · Ghazal

ہے میری زیست کا سہارا غم جو ملا ہے مجھے تمہارا غم انبیا پر کتاب نازل کی اور دل پر مرے اتارا غم یار کا غم بھی یار ہوتا ہے یار ہوتا نہیں خسارہ غم حسن سولہ سنگھار کرتا ہے اور کر آیا ہے اٹھارہ غم قلب روشن اسی سے ہے عالمؔ ہے تجلی کا استعارہ غم

hai meri ziist kaa sahaaraa gham

غزل · Ghazal

لب خاموش کا بیاں ہوں میں کنز مخفی ہے وہ عیاں ہوں میں میرے اندر لہو لہان ہے حق کوئی کربل سی داستاں ہوں میں بولتا ہوں میں ہے زبان اس کی مجھ میں وہ ہے نہاں کہاں ہوں میں پوچھ مجھ سے جو پوچھنا ہے تجھے سر مخفی کا رازداں ہوں میں جیبھ کاٹی علی علی نا رکا ایک میثم سا بے زباں ہوں میں طور دل جل گیا مرا عالمؔ اک تجلی کی داستاں ہوں میں

lab-e-khaamosh kaa bayaan huun main

غزل · Ghazal

اذیتیں یوں بڑھا رہا ہوں میں دل کی گردن دبا رہا ہوں وہ ہاتھ میں دل تھما کے بولے سنبھالو اس کو میں جا رہا ہوں خدا علیم بصیر ہے جب تو حال دل کیوں سنا رہا ہوں نیا نہیں ہے یہ عشق میرا ازل سے ہی مبتلا رہا ہوں مجھے فرشتہ نہ بول پیارے جا پوچھ ان سے میں کیا رہا ہوں حجاب کا ہے عذاب ورنہ خدا سے کب میں جدا رہا ہوں

aziyyatein yuun baDhaa rahaa huun

غزل · Ghazal

ابھی ذرا سی ہوا لگی ہے ابھی محبت نہیں ہوئی ہے کسی پہ مر کے ہے جینا سیکھا جو جان دے دی تو جاں بچی ہے جو میں نے پوچھا کہ عشق ہے کیا وہ ہنس کے بولے یہ زندگی ہے جو قلب کو زندگی نہ بخشے وہ بندگی بھی کیا بندگی ہے یوں علم معلوم کو نہ سمجھو یہ علم معلوم کی نفی ہے یہ عشق کی ہے نماز جس میں نہ تو امام اور نہ مقتدی ہے تمہاری مولا کی کھوج عالمؔ یہ ہاتھ کنگن کو آرسی ہے

abhi zaraa si havaa lagi hai

Similar Poets