SHAWORDS
M

Mahmood Azhar

Mahmood Azhar

Mahmood Azhar

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

khvaab aur khvaab kaa fusun nahin kuchh

خواب اور خواب کا فسوں نہیں کچھ آنکھ کھل جائے تو جنوں نہیں کچھ حسن کہتا ہے بات کر مجھ سے عشق کہتا ہے میں کہوں نہیں کچھ اور کچھ چاہیے محبت میں حالت حال دل زبوں نہیں کچھ رائیگاں جا رہے ہیں نقش مرے آئنہ خانہ ہی فزوں نہیں کچھ تو بہت احتیاط کرتا تھا تیرے ہاتھوں میں آج کیوں نہیں کچھ آسماں یوں بھی ہم پہ گرتا ہے سقف تو چھوڑیئے ستوں نہیں کچھ اس نے ماتھے پہ ہونٹ رکھ کے کہا آج یہ زخم نیلگوں نہیں کچھ لوٹ آتی ہے وہ نظر خالی کیا مری ذات کے دروں نہیں کچھ کام سر پر پڑے رہیں اظہرؔ اور میں بیٹھا رہوں کروں نہیں کچھ

غزل · Ghazal

kuchh nahin qil-o-qaal mein ai dost

کچھ نہیں قیل و قال میں اے دوست مست رہ اپنے حال میں اے دوست زندگی اس کا ذکر سنتے ہی آ گئی اشتعال میں اے دوست سانس لینا محال ہے یوں بھی اور ایسے وبال میں اے دوست کس قبیلے کے لوگ ہیں ہم لوگ خوش ہیں یعنی زوال میں اے دوست تیری صورت دکھائی پڑتی ہے کیا غزل کیا غزال میں اے دوست یاد ماضی میں عمر کٹ جائے خاک ہے ماہ و سال میں اے دوست سچ کہوں تو جواب رکھا ہے آپ ہی کے سوال میں اے دوست کوئی محمودؔ سا اگر ہے تو پیش کیجے مثال میں اے دوست

غزل · Ghazal

jis tayaqqun se jo likhnaa thaa nahin likkhaa gayaa

جس تیقن سے جو لکھنا تھا نہیں لکھا گیا آسماں کاٹ کے مٹی پہ زمیں لکھا گیا میری پیشانی دمکتی ہے ستاروں سے سوا تیرے ہاتھوں سے جہاں حرف یقیں لکھا گیا موج در موج سمندر سے ملاقات ہوئی خواب کو خواب سر سطح زمیں لکھا گیا عکس در عکس جو لکھنا تھا مجھے اس کا جمال آئنہ خانۂ حیرت کے تئیں لکھا گیا دیکھ کر اس کو مرے ہوش ٹھکانے نہ رہے اسم لکھنا تھا کہیں اور کہیں لکھا گیا ہاں اٹھایا تھا قلم کربلا والوں کے لیے لکھنا چاہا تھا مگر مجھ سے نہیں لکھا گیا دونوں سرمست ہیں احساس سخن سازی میں روشنی آنکھ کو اور دل کو حزیں لکھا گیا یوں تو صفحات سیہ کرتا رہا میں اظہرؔ چاہتا تھا جو مرا شوق نہیں لکھا گیا

غزل · Ghazal

kaun samjhegaa mire baad ishaare us ke

کون سمجھے گا مرے بعد اشارے اس کے ٹوٹ کر خاک میں ملتے ہیں ستارے اس کے اب ہمیں آنکھ اٹھا کر نہیں تکتا وہ شخص کتنے مضبوط مراسم تھے ہمارے اس کے جو سمندر مرے اطراف رواں ہے سر خاک ڈھونڈھتا رہتا ہوں دن رات کنارے اس کے اس کا نقصان حقیقت میں مرا اپنا ہے میرے حصے ہی میں آتے ہیں خسارے اس کے کتنی آسانی سے دیکھا تھا اسے پتھر میں کتنی مشکل سے خد و خال سنوارے اس کے صوت میں جتنا خلا ہے اسے پر کر دے صدا اس تسلسل سے کوئی نام پکارے اس کے ختم ہو سکتی ہے اظہرؔ یہ لڑائی اپنی اب بھی کچھ لوگ سلامت ہیں ہمارے اس کے

Similar Poets