
Mahmood Kazim
Mahmood Kazim
Mahmood Kazim
Ghazalغزل
apne sab daftar ke saathi yaar hamaaraa koi nahin
اپنے سب دفتر کے ساتھی یار ہمارا کوئی نہیں کرسی میز کا ان سے رشتہ دل کا رشتہ کوئی نہیں در پہ مرے وہ جب تک پہنچا کھل گئے راہ کے دروازے میں نے سوچا تھا کہ یہاں پر اس کا شناسا کوئی نہیں وہ بھی اچھے آپ بھی اچھے کون برا ہے لیکن ہاں جو ہم کو اچھا کہتا ہے اس سے اچھا کوئی نہیں آؤ ذرا چل کر تو دیکھیں کون ہیں یہ کیسے ہیں لوگ اک مدت سے اس بستی میں آتا جاتا کوئی نہیں رات ہوا کچھ تیز تھی شاید بول رہے تھے دروازے پوچھتے کیوں ہو کون آیا تھا کون آیا تھا کوئی نہیں گھر کو تو ہمسائے نے چھینا سائے بن کے رہے کاظمؔ خط کا جواب نہ تم اب دینا اپنا ٹھکانا کوئی نہیں
nikhat-e-gul se bu-e-yaar aae
نکہت گل سے بوئے یار آئے اب کے یوں فصل نو بہار آئے ہم کو ملتا بھی کیا کہ خود ہم ہی لے کے دامان تار تار آئے ہم خطاؤں کا کر چکے اقرار اب یہ کیوں آپ شرمسار آئے آئے دیوانہ وار باد صبا ہوش اڑاتی ہوئی بہار آئے اہل وحشت کی بزم میں کاظمؔ بن کے دیوانے ہوشیار آئے
khud ko pahchaanaa to duniyaa ajnabi lagne lagi
خود کو پہچانا تو دنیا اجنبی لگنے لگی ہر تعلق میں تعلق کی کمی لگنے لگی کیا ضروری تھا کہ تم ملتے رہو اثنائے راہ اک معمہ سی تمہاری بے رخی لگنے لگی میرا مستقبل نہ بتلا دیکھ کوئی سن نہ لے کتنی لرزہ خیز تیری آگہی لگنے لگی کھو گئے اپنے میں خود کو ڈھونڈنے والے تمام اب تو عرفان انا بھی گمرہی لگے لگی خشک اک مدت سے تھا جو میرے آنگن کا درخت اب کے تم آئے تو پتی پھر ہری لگنے لگی
is jagah kaun kaun thaa likhiye
اس جگہ کون کون تھا لکھیے بھید کس طرح کھل گیا لکھیے جرم کو جرم کی سزا لکھیے درد کو درد کی دوا لکھیے بات تحریر تک جب آ پہنچی وہ برا ہے تو پھر برا لکھیے کوئی راضی نہیں گواہی پر سب مصر ہیں کہ حادثہ لکھیے بات تو یہ ہے بات کچھ بھی نہیں آپ چاہیں تو حاشیہ لکھیے سچ ہے جینے کا حق نہیں مجھ کو ہے کوئی اور مشورہ لکھیے بات کا وقت کھو دیا کاظمؔ اب تو لکھنا ہی رہ گیا لکھیے
khud ko har pal se baa-khabar rakhiye
خود کو ہر پل سے باخبر رکھئے لمحہ لمحہ سنبھال کر رکھئے کس کو فرصت ہے بات کو پرکھے اپنے لہجے کو پر اثر رکھئے یہ ستارے بہت ہیں کج رفتار ان کی رفتار پر نظر رکھئے انتقال اور تبادلہ برحق گھر کا سامان مختصر رکھئے ہے بہت سخت کل کا ریگستاں چھاگلیں آج ہی سے بھر رکھئے شاعرانہ روش یہ ہے کاظمؔ بے خبر بن کے سب خبر رکھئے
paasbaan-e-shahr chup hai vaqt kaisaa aa gayaa
پاسبان شہر چپ ہے وقت کیسا آ گیا توڑ کر دیوار و در بستی میں صحرا آ گیا دوپہر کی دھوپ اور صحرا کوئی کیا ساتھ دے ڈر کے جب خود میرے اندر میرا سایا آ گیا آئنے میں بال اک چمکا مرے سر کا سفید اڑ کے باہر صحن میں اک زرد پتا آ گیا ابن آدم کا لہو سب کی بجھا دیتا ہے پیاس جب کبھی پیاسا ہوا بستی میں دریا آ گیا ہے وہی شاعر مری نظروں میں کاظمؔ کامیاب لفظ کی تلوار پر جس کو کہ چلنا آ گیا





