Mahmood Rahi
Mahmood Rahi
Mahmood Rahi
Ghazalغزل
فصل گل ہو کہ خزاں سب میں چٹکتے آئے ہم ہر اک دور کے دامن میں مہکتے آئے ٹوٹ جانا تو ستاروں کا مقدر ٹھہرا ہم چمک والے ہیں چمکیں گے چمکتے آئے جو روایت ہے ازل سے وہ ہے انجام اپنا اہل دل وقت کی سولی پہ لٹکتے آئے کتنے الزام تھے طعنے تھے شکایت تھی بہت سب اسی در پہ مگر سر کو پٹکتے آئے ہم جنوں والوں سے کب دور تھی منزل راہیؔ عقل والے تھے جو راہوں میں بھٹکتے آئے
fasl-e-gul ho ki khizaan sab mein chaTakte aae
قطرہ قطرہ خون کا شرح وفا بنتا گیا زندگی کا نقطہ نقطہ دائرہ بنتا گیا صدقے جاؤں آب و گل کی انفرادی شان پر چہرہ چہرہ ٹوٹ کر اک آئینہ بنتا گیا وقت کے ہم راہ جتنی دوریاں بڑھتی گئیں لمحہ لمحہ قربتوں کا سلسلہ بنتا گیا آفرینش سے رہا پرچم بغاوت کا بلند اور نظام زندگی کا ضابطہ بنتا گیا عقل کی پروردہ راہیں تھی زمین سنگلاخ جب جنوں حد سے بڑھتا تو راستہ بنتا گیا
qatra qatra khuun kaa sharh-e-vafaa bantaa gayaa





