SHAWORDS
Mahmood Zaki

Mahmood Zaki

Mahmood Zaki

Mahmood Zaki

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ek be-naam si chaahat ke sivaa kuchh bhi nahin

ایک بے نام سی چاہت کے سوا کچھ بھی نہیں زندگی تیری محبت کے سوا کچھ بھی نہیں حسن مغرور سہی شان خود آرائی پر عشق کے پاس تو حیرت کے سوا کچھ بھی نہیں رخ بدلتے ہوئے حالات سے رو گردانی ایک ناکام بغاوت کے سوا کچھ بھی نہیں ہر نفس ایک نئی ٹیس لیے آتا ہے زندگی جبر مشیت کے سوا کچھ بھی نہیں عشق کی خوئے وفا حسن کا آئین ستم اب تو فرسودہ روایت کے سوا کچھ بھی نہیں پھر اٹھی ہیں مری جانب وہ نگاہیں تو ذکیؔ دل میں اب سوز محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

غزل · Ghazal

main ne aaghaaz mein anjaam ki baatein ki hain

میں نے آغاز میں انجام کی باتیں کی ہیں گر سمجھ لو تو بڑے کام کی باتیں کی ہیں وہی جذبہ جو محبت کا امیں ہوتا ہے ہاں اسی جذبۂ بے نام کی باتیں کی ہیں ہم سنا بیٹھے ہیں افسانۂ کونین انہیں اور کہنے کو فقط نام کی باتیں کی ہیں چند موہوم امیدوں کا سہارا لے کر آج ان سے دل ناکام کی باتیں کی ہیں کانپ اٹھی ہے مری دنیائے محبت اے دوست دل سے جب عشق کے انجام کی باتیں کی ہیں میں گزر آیا ہر اک کیفیت مے سے ذکیؔ وہ سمجھتے ہیں کہ بس جام کی باتیں کی ہیں

غزل · Ghazal

teri nazar ke ishaaron ki baat kaun kare

تیری نظر کے اشاروں کی بات کون کرے زمیں پہ رہ کے ستاروں کی بات کون کرے ہمیں ہیں راس تھپیڑے ہی تند موجوں کے اداس اداس کناروں کی بات کون کرے بڑھے نہ ان سے کہیں اور دل کی ویرانی خزاں کے دن ہیں بہاروں کی بات کون کرے شعور فکر و نظر سے ہے اب جہاں روشن فلک کے چاند ستاروں کی بات کون کرے ابھی ہیں ان کے لبوں پر مسرتیں رقصاں غم حیات کے ماروں کی بات کون کرے کسے ہے فرصت نظارگی نصیب ذکیؔ کسی کے شوخ نظاروں کی بات کون کرے

Similar Poets