
Mahnaz Anjum
Mahnaz Anjum
Mahnaz Anjum
Ghazalغزل
is khvaab ki nadi ki ravaani mein kahin ho
اس خواب کی ندی کی روانی میں کہیں ہو پانی مجھے کہتا ہے کہ پانی میں کہیں ہو تم پیڑ کا کردار نبھانے چلے آئے تم دھوپ کی صورت بھی کہانی میں کہیں ہو یہ موسم سرسبز یہ کھلتی ہوئی یادیں دل کہتا ہے تم رات کی رانی میں کہیں ہو یاروں میں محبت نہیں موجود ذرا بھی یہ بات کسی دشمن جانی میں کہیں ہو ٹھہرے ہوئے پل میں جو سکوں ڈھونڈ رہی ہوں ممکن ہے کسی نقل مکانی میں کہیں ہو یہ کون دھنک لایا مرے دل کے افق پر لگتا ہے کہ تم رنگ رسانی میں کہیں ہو
ye paani saaaton kaa aaine saa kyon nahin hai
یہ پانی ساعتوں کا آئینے سا کیوں نہیں ہے ندی سے آسمانی رنگ جھلکا کیوں نہیں ہے مری راتوں کو جس جگنوں کی اتنی آرزو تھی وہ میری جستجو میں جلتا بجھتا کیوں نہیں ہے میں مڑنے دوں گی اس کو اجنبی منزل کی جانب وہ میرے خون میں بہتا ہے میرا کیوں نہیں ہے تعجب ہے کہ میں رستے بنانے میں لگی ہوں وہ دریا ہے تو دیواریں گراتا کیوں نہیں ہے یہ غم کی چاپ تھم جائے تو دل سے پوچھتی ہوں خوشی کے عارضوں کا رنگ گہرا کیوں نہیں ہے میں ہنستی ہوں تو آنسو کھولنے لگتے ہیں مہنازؔ یہ پانی غم کے شعلوں پر ابلتا کیوں نہیں ہے
sitaare ki sajal jhilmil ke resham se bani main
ستارے کی سجل جھلمل کے ریشم سے بنی میں ہجوم خلق دو رویا کھڑا ہے اور چلی میں یہ جو صحراؤں کے ابعاد آنکھوں میں کھلے ہیں بگولوں کو بھلی لگنے لگی ہوں ہجرتی میں میں سوتی رہ گئی بیدار لمحے کے عمق میں کوئی خوابیدہ ساعت تھی کہ جس میں جاگتی میں کئی صحرا تھے میری پیاس کی پہنائیوں میں کسی دریا کے تٹ تک آ کے پھر واپس مڑی میں یہ تم جو کیسری نیلا بنفسی ڈھونڈتے ہو تمہیں یہ رنگ مل سکتے ہیں پر میری ہنسی میں کسی رہرو میں اتنا دم نہیں آئے دھم کو پچھل پیری کوئی پھرتی ہے خواہش کی گلی میں یہ لے کاری یہ گرداب غنا یہ احمریں سر کسی کے ہونٹ گھل کر آ رہے ہیں بانسری میں ضروری تھا کہ دل کے پیچ و خم پر آنکھ پڑتی پتا تیرا بھلا لوگوں سے کیسے پوچھتی میں کھنک اٹھتی ہے رہ رہ کر مری آواز مہنازؔ بہت نم ساز مٹی گوندھ کر شاید بنی میں
harf ko phuul banaate hue itraati huun
حرف کو پھول بناتے ہوئے اتراتی ہوں میں تجھے اپنا بتاتے ہوئے اتراتی ہوں ساحل وقت پہ چلتے ہوئے دیکھا تم نے نقش پا اپنے بناتے ہوئے اتراتی ہوں ہے کوئی خوابچہ کب سے مری انگلی تھامے میں اسے چلنا سکھاتے ہوئے اتراتی ہوں اتر آتی ہیں مری چھت پہ ہنستی راتیں اور میں چاند اڑاتے ہوئے اتراتی ہوں انگنت نجم تہ جاں میں اتر آتے ہیں آنکھ کی پتلی گھماتے ہوئے اتراتی ہوں لہلہاتا ہے خیالوں میں تمہارا چہرہ اور میں ہاتھ لگاتے ہوئے اتراتی ہوں دھوپ کی برکھا ہے یہ چھاجوں برس جاتی ہے دیر تک اس میں نہاتے ہوئے اتراتی ہوں کیسے گلنار سے ہو جاتے ہیں عارض میرے میں ترے سامنے آتے ہوئے اتراتی ہوں چہچہاتی ہیں خیالات کی چڑیاں مہنازؔ درد کی فصل اگاتے ہوئے اتراتی ہوں
main apne par bhi uDaanein bhi khud banaaungi
میں اپنے پر بھی اڑانیں بھی خود بناؤں گی نشانہ لیتی کمانیں بھی خود بناؤں گی ہوا سے فیض کی امید تک نہیں مجھ کو سو اونچی نیچی اڑانیں بھی خود بناؤں گی میں حرف لکھوں گی پہلے ورق پہ گھائل سا پھر اس کی زخم کی تانیں بھی خود بناؤں گی مکالمہ بھی نیا ہوگا آپسی سب کا جہان نو کی زبانیں خود بناؤں گی میں منہدم کروں گی سب غنیم دیواریں قلعے کے گرد چٹانیں بھی خود بناؤں گی ہنسی کو میں نے ہی شو کیس میں سجا دیا تھا اور اب خوشی کی دکانیں بھی خود بناؤں گی کہیں سے ملتے ہیں پاتال اب تعلق کے میں یہ عمیق ڈھلانیں بھی خود بناؤں گی
aankh bhar aai hai meri siile siile lafz hain
آنکھ بھر آئی ہے میری سیلے سیلے لفظ ہیں یہ مری روداد میرے گیلے گیلے لفظ ہیں وصل خوش امکان کو بھولا نہیں وہ ہجرتی کیسری نامے ہیں جن میں نیلے نیلے لفظ ہیں دیکھ لے تو کھول کر اپنی یہ زنبیل سخن اور تو کچھ بھی نہیں کڑوے کسیلے لفظ ہیں زندگی کڑوی ہے پر خوش ذائقہ میرا کہا ہونٹ رکھ کر دیکھ لے میٹھے رسیلے لفظ ہیں شعر کی محفل میں سب سے مختلف میری غنا کانچ جیسا حلق ہے اور سب سریلے لفظ ہیں ایک دو مہناز انجمؔ ہوں گلابی پھول بھی دھیان کی ٹہنی پہ کتنے پیلے پیلے لفظ ہیں





