Mahwi Siddiqi
صلائے عام ساقی ہے کہ آؤ با صفا کر دوں فنا کی مے پلا کر مست و مدہوش بقا کر دوں تمنائے وصال یار ہے تفریح روحانی جو قابو ہو تو اپنی جان و دل تم پر فدا کر دوں مری رنگیں بیانی منحصر ہے ذکر جاناں پر مضامیں معرفت کے جس طرح چاہے ادا کر دوں ستم ہے سر جھکا کر مسکرا کر یار کا کہنا ملے خون دل عاشق تو میں ترک حنا کر دوں تمہیں آئینۂ وحدت میں دیکھو شان محبوبی میں اے محویؔ یہ عقدہ راز کا کس طرح وا کر دوں
salaa-e-aam-e-saaqi hai ki aao baa-safaa kar duun