Maikash Amrohvi
Maikash Amrohvi
Maikash Amrohvi
Ghazalغزل
وہ مسرت کے سائبان میں تھے اور ہم دھوپ کے مکان میں تھے اب کہیں بھی اماں نہیں ملتی اب سے پہلے ہی ہم امان میں تھے پیاس وہ تھی کہ ہونٹ سوکھ گئے خشک کانٹے مری زبان میں تھے اے مرے دل کہاں گئے وہ لوگ جو ابھی اپنے درمیان میں تھے پھول جھڑتے تھے بات کرتے میں وہ پری چہرہ اس جہان میں تھے میں تمہیں ڈھونڈنے کہاں جاتا تم مری جان میری جان میں تھے زندگی عیش سے گزرتی تھی آپ جب تک مرے گمان میں تھے
vo masarrat ke saaebaan mein the
ایسا وہ زندگی کا قلق دے گیا مجھے میں اس کو بھول جاؤں یہ حق دے گیا مجھے اس سے بچھڑ کے ہو گیا دنیا شناس میں وہ سارے زندگی کے سبق دے گیا مجھے پہلے تو اس نے ہاتھ میں میرے قلم دیا پھر چلتے چلتے سادہ ورق دے گیا مجھے خود تو وہ جا کے خاک کے بستر پہ سو گیا اپنی بلندیوں کے افق دے گیا مجھے کتنے حسین اس کی محبت کے رنگ تھے جب شام ہو گئی تو شفق دے گیا مجھے
aisaa vo zindagi kaa qalaq de gayaa mujhe
جو لوگ اپنے ارادوں میں جان رکھتے تھے بلند حوصلے اونچی اڑان رکھتے تھے تمہارے پاس بھی جن کا کوئی جواب نہ تھا سوال ہم وہ دم امتحان رکھتے تھے میں دل کی بات بھی کہتا تو کس طرح کہتا گلی کے سب در و دیوار کان رکھتے تھے تمہاری بزم سے خاموش جو چلے آئے وہ کم سخن بھی تو منہ میں زبان رکھتے تھے ہمیں حقیر نہ سمجھو تم اے جہاں والو کہ ہم بھی زیر قدم آسمان رکھتے تھے
jo log apne iraadon mein jaan rakhte the
گل کے تھے گلستاں کے تھے ہی نہیں ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں کارواں اس لئے ہی چھوڑا تھا ہم ترے کارواں کے تھے ہی نہیں جن سے کرنی تھی گفتگو ہم کو وہ ہماری زباں کے تھے ہی نہیں آپ سنتے تو سن کے رو دیتے واقعے وہ بیاں کے تھے ہی نہیں موسم گل کے انتظار میں تھے ہم خزاں میں خزاں کے تھے ہی نہیں وہ جہاں تھے وہیں رہے اب تک ہم جہاں ہیں وہاں کے تھے ہی نہیں میں نے سمجھا تھا داستاں جن کو وہ مری داستاں کے تھے ہی نہیں
gul ke the gulsitaan ke the hi nahin
نکل رہا ہے تو پھر میرے جسم و جاں سے نکل جو درمیاں نہیں رہنا تو درمیاں سے نکل کبھی بھی میں نے زمیں پر تجھے نہیں دیکھا بلندیوں پہ اگر ہے تو آسماں سے نکل ترا وجود سراپا غزل سا لگتا ہے کبھی تو شعر کی صورت مری زباں سے نکل تمام عمر ہی رہنا ہے دھوپ میں مجھ کو اگرچہ ساتھ میں چلنا ہے سائباں سے نکل تو مجھ میں آ کے سما جا اگر تو میرا ہے جو میرا کوئی نہیں ہے تو داستاں سے نکل
nikal rahaa hai to phir mere jism-o-jaan se nikal
یوں ہی نظروں سے کہاں اہل نظر گرتے ہیں جن کی بنیاد نہیں ہوتی وہ گھر گرتے ہیں میرے آنگن کی چنبیلی انہیں روکے رہنا یہ سنا ہے مری دیوار سے در گرتے ہیں ہاتھ میں اپنے میں شمشیر لئے پھرتا ہوں دل میں معصوم تمناؤں کے سر گرتے ہیں وہ بھی ہجرت میں مری پھیر کے منہ روتا ہے میرے آنسو بھی بہت وقت سفر گرتے ہیں وہ ہلا دیتا ہے یادوں کے شجر چپکے سے پھر بھی پہلے سے کہاں ان سے ثمر گرتے ہیں
yunhi nazron se kahaan ahl-e-nazar girte hain





