
Maikash Azmi
Maikash Azmi
Maikash Azmi
Ghazalغزل
کچھ تم بہک گئے تھے تو کچھ میں بہک گیا پھر زندگی کی گاڑی کا پہیہ سرک گیا پتھراؤ تب ہوا ہے تعلق کی فصل پر جب زندگی کے کھیت کا ہر گیہوں پک گیا چھیڑا ہے جب کسی نے محبت کے گیت کو دل میں تمہاری یاد کا غنچہ چٹک گیا اترا وہ نوجوان جو دولت کی کار سے سینے سے لڑکیوں کے دوپٹہ سرک گیا قسمت نواز لوگ تو رستے کے ہو گئے ہمت جواں تھی جس کی وہی چاند تک گیا بوڑھا ہوا جو باپ تو بیٹی جواں ہوئی کچھ اور بوجھ بڑھ گئے تو جسم تھک گیا
kuchh tum bahak gae the to kuchh main bahak gayaa
وحشتوں کا سر و سامان ہمیں ہونا ہے مستقبل دشت و بیابان ہمیں ہونا ہے ہم تو دلی بھی نہیں ہیں کہ کئی بار لٹیں ایک ہی بار میں ویران ہمیں ہونا ہے ہم کو اب نام و نسب سے نہ پکارے کوئی اک نئے دور کی پہچان ہمیں ہونا ہے اس لئے ہم سے ہی منسوب ہے یہ کرب و بلا اے زمیں تیرا نگہبان ہمیں ہونا ہے چہرہ پڑھتے ہی کوئی دل کی کہانی پڑھ لے زندگی اتنا کب آسان ہمیں ہونا ہے
vahshaton kaa sar-o-saamaan hamein honaa hai
آئنہ اتنا دیکھتا ہے کیا آئنے میں کوئی چھپا ہے کیا حسرتیں ساری ناتمام رہیں زندگی اتنی بے وفا ہے کیا کال میسج نہ تو کوئی مسکال دوسرا کوئی مل گیا ہے کیا تم مجھے چھوڑ ہی گئے آخر خون ناحق تمہیں روا ہے کیا سب ہی سنتے ہیں اس کو حیرت سے ہونٹ پر کلمۂ خدا ہے کیا خواب جنت کا دیکھنے والو تم نے دنیا میں کچھ کیا ہے کیا
aaina itnaa dekhtaa hai kyaa
چراغ مہر و محبت جلا سکو تو چلو عداوتوں کے اندھیرے مٹا سکو تو چلو کسی کا بوجھ کہاں تک کوئی اٹھائے گا تم اپنا بوجھ اگر خود اٹھا سکو تو چلو ہماری زیست کا ہر لمحہ کرب کا لمحہ غموں کی بھیڑ میں گر مسکرا سکو تو چلو خزاں کے بعد ہی فصل بہار آتی ہے غم حیات سے آنکھیں ملا سکو تو چلو
charaagh-e-mehr-o-mohabbat jalaa sako to chalo
شب وصال کی حسرت نے مار ڈالا ہے فقیر عشق کو چاہت نے مار ڈالا ہے سنا ہے عشق میں مرتے ہیں ہے وفائی سے مجھے تو تیری محبت نے مار ڈالا ہے ذرا سی بات پہ لڑکی نہ خود کشی کرتی اسے سماج کی غیرت نے مار ڈالا ہے اسے ہی چھوڑنا پڑتا ہے گھر محبت کا جسے بھی گھر کی ضرورت نے مار ڈالا ہے بہت سے لوگ ذلالت میں مارے جاتے ہیں کسی کسی کو شرافت نے مار ڈالا ہے وبا یہ کیسی ہے بیٹھے ہیں لوگ ہاتھ دھرے سبھی کو ایک سی فرصت نے مار ڈالا ہے
shab-e-visaal ki hasrat ne maar Daalaa hai
عشق میں جب بھی سانحہ ہوگا دل ہی ٹوٹے گا اور کیا ہوگا رات کو فون میں نہیں کرتا وہ کوئی خواب دیکھتا ہوگا اپنی ہمت جوان تو رکھو بہتے دریا میں راستہ ہوگا اس کو فرصت کبھی نہیں ہوگی آدمی جو بھی کام کا ہوگا اپنے گھر میں بڑا تو میں ہی ہوں ہر کوئی مجھ سے ہی خفا ہوگا رات کے دو بجے ہیں میکشؔ جی اب تو وہ شعر کہہ رہا ہوگا
ishq mein jab bhi saaneha hogaa





