
Maikash Badayuni
Maikash Badayuni
Maikash Badayuni
Ghazalغزل
harim-e-dil se rah-e-chashm-e-tar se guzre hain
حریم دل سے رہ چشم تر سے گزرے ہیں ہزار بار وہ اس رہ گزر سے گزرے ہیں وہ جن کو دیکھ کے لطف حیات ملتا ہے کچھ ایسے دشمن جاں بھی نظر سے گزرے ہیں یہ عطر بار فضائیں یہ پر ضیا جادے بتا رہے ہیں ابھی وہ ادھر سے گزرے ہیں جو زندگی کو خود اپنے سے بد گماں کر دیں وہ حادثے بھی ہماری نظر سے گزرے ہیں جو تیری یاد کی دولت سے بے نصیب رہے وہ لمحے زیست کے نا معتبر سے گزرے ہیں جمال دوست بھی مشتاق یک نظر ہے جہاں ہم اس بلندئ ذوق نظر سے گزرے ہیں تمہیں تو ہوگی خبر ساکنان دیر و حرم سنا ہے حضرت میکشؔ ادھر سے گزرے ہیں
kaun aayaa gesuon ko pareshaan kiye hue
کون آیا گیسوؤں کو پریشاں کئے ہوئے بربادئ نگاہ کا ساماں کیے ہوئے پھر چاہتا ہوں خنجر قاتل سے ارتباط دشوارئ حیات کو آساں کیے ہوئے پھر ساحل مراد کی ہے دل کو آرزو کشتی کو نذر شورش طوفاں کیے ہوئے پھر ہوں ترے تغافل ظاہر کا شکوہ سنج جاں کو فدائے پرسش پنہاں کیے ہوئے پھر ہیں حریم ناز سے جلووں کی بارشیں حیرانی نگاہ کا ساماں کئے ہوئے میکشؔ نہیں مجھے مئے و میخانہ کی تلاش بیٹھا ہوں چشم یار سے پیماں کئے ہوئے
ye haadse mire fan ko nikhaar bhi deinge
یہ حادثے مرے فن کو نکھار بھی دیں گے حیات کو نفس شعلہ بار بھی دیں گے یہ انگلیاں کہ جو رقصاں ہیں ساز عشرت پر ہم ان سے کاکل گیتی سنوار بھی دیں گے خزاں رسیدہ یہ غنچے یہ خار و خس یا سموم چمن کو مژدۂ فصل بہار بھی دیں گے پیام صبح مسرت کہاں مقدر میں کسی طرح جو شب غم گزار بھی دیں گے کچھ اور سوچو مرے حق میں دشمنوں کہ مجھے متاع غم تو مرے غم گسار بھی دیں گے کسے خبر تھی کہ آلام زندگی میکشؔ خمار بادۂ عشرت اتار بھی دیں گے
tabiat-e-be-niyaaz-e-josh-e-vahshat ho to sakti hai
طبیعت بے نیاز جوش وحشت ہو تو سکتی ہے جو تم چاہو تو بہتر میری حالت ہو تو سکتی ہے وہ دل لینے چلے ہیں اک نگاہ ناز کے بدلے چلو اس جنس کی بھی کوئی قیمت ہو تو سکتی ہے نہیں اہل وفا کی قدر تیری بزم میں لیکن کبھی ان سرفروشوں کی ضرورت ہو تو سکتی ہے دعائیں مانگتے تھے صبح نو کی یہ نہ سوچا تھا کبھی صبح وطن بھی شام غربت ہو تو سکتی ہے یہ مانا کاروبار زندگی قائم ہے نفرت پر مگر انساں کو انساں سے محبت ہو تو سکتی ہے یہ میں نے کب کہا میری طرح تم کو محبت ہے مگر میری طرح تم کو محبت ہو تو سکتی ہے چلے ہیں روٹھ کر کچھ رند مے خانہ سے اے میکشؔ یہی آزردگی عزم بغاوت ہو تو سکتی ہے
aalaam-e-rozgaar ki maari hai zindagi
آلام روزگار کی ماری ہے زندگی پھر بھی ہمیں عزیز ہے پیاری ہے زندگی آسودگان عشرت ہستی کو کیا خبر ہم جانتے ہیں جیسی ہماری ہے زندگی اتنا بتا چکے ہیں کہ کندن بنا دیا شعلوں میں غم کے ہم نے نکھاری ہے زندگی گل شاخ پر کبھی کف گلچیں میں ہے کبھی یکساں جہاں میں کس نے گزاری ہے زندگی ہر لمحہ زندگی کا امانت کسی کی ہے ہم زندگی کے ہیں نہ ہماری ہے زندگی مقدور ہو تو اس کو بدل لیں اجل سے ہم ایسی فراق دوست میں بھاری ہے زندگی میکشؔ ہمیں کہاں حرم و دیر کی خبر ہم نے تو مے کدہ میں گزاری ہے زندگی
guzri hui raunaq ke nishaan le ke chale ham
گزری ہوئی رونق کے نشاں لے کے چلے ہم لو کشتہ چراغوں کا دھواں لے کے چلے ہم ہے دوش پہ کتنے ہی زمانوں کی وراثت ہر گام پہ اک بار گراں لے کے چلے ہم ہو تیرا برا آرزوئے سنگ حوادث سو کار گہہ شیشہ گراں لے کے چلے ہم اس انجمن ناز میں ہے کون خریدار بیکار متاع دل و جاں لے کے چلے ہم مے خانہ میں امید کرم لائی تھی میکشؔ اور بے خئ پیر مغاں لے کے چلے ہم





