SHAWORDS
Maikash Lucknowi

Maikash Lucknowi

Maikash Lucknowi

Maikash Lucknowi

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کبھی جو بھولے سے دل میں خیال یار آیا شباب رفتہ کو میں دور تک پکار آیا کچھ اس ادا سے مرا جان انتظار آیا مجھے خود اپنی نظر پر نہ اعتبار آیا کیا تھا آنے کا وعدہ وہ ایک بار آیا نہ آ سکا سر بالیں سر مزار آیا یہ میری آہ کی تاثیر تھی یا اس کی ضد وہ بے قرار ہوا جب مجھے قرار آیا بلائیں لے کے مرے زخم دل کو چوم لیا ستم ظریف کو آیا تو کس پہ پیار آیا ہمارے بعد جو آئے ہیں پوچھ لو ان سے کہ ان کے پاؤں کے نیچے بھی کوئی خار آیا جس آئنے کو نظر بھر کے میں نے دیکھ لیا اس آئنے میں نظر مجھ کو عکس یار آیا پلائی تھی مرے ساقی نے جس میں پہلے پہل وہ جام میرے تصور میں بار بار آیا سنی تھی اپنی ہی آواز دشت وحشت میں میں اپنے آپ کو چاروں طرف پکار آیا گیا تھا ترک محبت کا فیصلہ کرنے مگر میں آخری بازی بھی ان سے ہار آیا دل و جگر کو لٹا کر نظر گذر کے لئے میں تیرے حسن کا صدقہ بھی آج اتار آیا

kabhi jo bhule se dil mein khayaal-e-yaar aayaa

غزل · Ghazal

عکس جاناں مری نگاہ میں ہے حسن اب عشق کی پناہ میں ہے تنگ ہے کائنات میرے لئے اتنی وسعت مری نگاہ میں ہے جتنی پر کیف ہے امید کرم اتنی ہی دل کشی گناہ میں ہے لو نکلتی ہے ہر بن مو سے سوز صد آہ ضبط آہ میں ہے اپنی منزل کا حال کیا جانے وہ مسافر ابھی جو راہ میں ہے آہ کی ہی نہیں تو کیا معلوم کتنی تاثیر میری آہ میں ہے بے قراری جو تھی مرے دل میں اب وہی آپ کی نگاہ میں ہے دیکھتے کیا ہیں آپ حیرت سے نقش پا آپ ہی کا ماہ میں ہے شیخ صاحب کہاں چلے آئے میکدہ کیا حرم کی راہ میں ہے عدل گستر ذرا خیال رہے آدمی تیری بارگاہ میں ہے ساتھ دے گی تو اے خرد کب تک تیری منزل تو میری راہ میں ہے حسن جیسا ہے میری دنیا میں وہ نہ انجم میں ہے نہ ماہ میں ہے

aks-e-jaanaan miri nigaah mein hai

غزل · Ghazal

لعل و گوہر نہ زر کی بات کرو اس بت سیم بر کی بات کرو کیوں مرے سر کا ذکر چھیڑ دیا اپنے دیوار و در کی بات کرو ظلمت شب کا دور ختم ہوا اب سحر ہے سحر کی بات کرو بات دل ہی میں رہنے دو دل کی گھر کے باہر نہ گھر کی بات کرو کر چکے ذکر اپنے حسن کا اب میرے حسن نظر کی بات کرو شیخ کو ذکر حور کرنے دو تم بشر ہو بشر کی بات کرو ناصحو کہہ چکے تم اپنی بات اب مرے چارہ گر کی بات کرو

laal-o-gauhar na zar ki baat karo

غزل · Ghazal

آج وہ بار بار یاد آیا اور بے اختیار یاد آیا جس کے دم سے تھی رونق ہستی وہ دل بے قرار یاد آیا پھر ہوئی گدگدی سی تلووں میں پھر مجھے خار زار یاد آیا جب بھی عزم حرم کیا میں نے آپ کا رہ گزار یاد آیا ابر باراں کو دیکھ کر اپنا دیدۂ اشک بار یاد آیا راز دل میں چھپا رہا تھا مگر دامن تار تار یاد آیا

aaj vo baar-baar yaad aayaa

غزل · Ghazal

کسی صورت کمی ہوتی نہیں سوز نہانی میں مری دنیا بہی جاتی ہے اشکوں کی روانی میں نواسنج فغاں اے باغباں یہ بلبلیں کیوں ہیں بہار آئی ہے کیسی تیرے دور باغبانی میں خرد والو ادھر آؤ یہاں بیٹھو مجھے دیکھو کہ کیسا مطمئن ہوں میں جنوں کی حکمرانی میں مرا خون تمنا خون دل خون وفا لے کر جو رنگ آمیزیاں چاہو کرو اپنی کہانی میں تپش سے دل کی لو دینے لگے آنسو سر مژگاں تماشا دیکھ لو آکر لگی ہے آگ پانی میں ابھی کچھ پھیکی پھیکی سی ہے روداد غم جاناں وہ سن لیں گے تو جان آ جائے گی پوری کہانی میں کہاں کا حسن کیسا عشق اتنا یاد ہے مجھ کو کہ اک الجھا ہوا سا خواب دیکھا تھا جوانی میں نہ جانے کیوں مجھے وہ اپنا دیوانہ سمجھ بیٹھے جب ان کا نام تک آیا نہ تھا میری کہانی میں

kisi surat kami hoti nahin soz-e-nihaani mein

غزل · Ghazal

حسن ہے داد طلب شکوۂ بیداد نہ کر عشق کی فتح اسی میں ہے کہ فریاد نہ کر ہے اگر ہمت پرواز تو اے مرغ اسیر طائر روح کو منت کش صیاد نہ کر تشنۂ لذت غم ہے دل پر درد ہنوز تو ابھی ترک ستم اے ستم ایجاد نہ کر ہم نشیں اپنے مقدر کی شکایت کرکے میری رعنائیٔ افکار کو برباد نہ کر تجھ کو صیاد مرے ذوق اسیری کی قسم چھوڑ دے ہم قفسوں کو مجھے آزاد نہ کر وہ نہ آئے ہیں نہ آئیں گے پلٹ کر میکشؔ ایسے گزرے ہوئے لمحات کو اب یاد نہ کر

husn hai daad-talab shikva-e-bedaad na kar

Similar Poets