
Maisam Abaas
Maisam Abaas
Maisam Abaas
Ghazalغزل
یہ جان کر تجھے کوئی خوشی نہیں ہوگی کہ تیرے بعد بھی مجھ میں کمی نہیں ہوگی یہ سارا جھگڑا ترا ہے جو تو نہیں ہوگا یہاں کسی کی بھی پھر دشمنی نہیں ہوگی میں ایک دن کوئی تصویر بھی بناؤں گا یہ اور بات کہ وہ آپ کی نہیں ہوگی میں اس لئے تری آنکھوں کو ساتھ رکھتا ہوں میں جانتا ہوں وہاں روشنی نہیں ہوگی یہ زندگی کسی بچھڑے کا غم مناتے ہوئے بس ایک لمحے سے زیادہ رکی نہیں ہوگی ہمارے جسم کی دنیا خزاں رسیدہ ہے تمہارے چھونے سے کیا یہ ہری نہیں ہوگی وہ جس کی آنکھ میں اب تک مشال زندہ ہے وہ ماں تو ٹی وی بھی اب دیکھتی نہیں ہوگی یہاں سیاست و مذہب پہ جنگ ہوگی فقط مری زمین پہ اب شاعری نہیں ہوگی
ye jaan kar tujhe koi khushi nahin hogi
1 views
کتنوں کو دستیاب ہے کتنوں کا رزق ہے اک چاند ہے جو ہجر کی راتوں کا رزق ہے فاقوں سے مر نہ جائیں انہیں اب دکھائی دے یہ جان لے کہ تو مری آنکھوں کا رزق ہے اس نبض کی بقا کو ضروری ہے تیرا لمس خوشبو ترے وجود کی سانسوں کا رزق ہے دیکھے گا یہ ہجوم مجھے کس نگاہ سے یہ خوف اپنے آپ میں نسلوں کا رزق ہے وہ مخملی سے خواب تو اب خواب ہو گئے لے دے کے اضطراب ہی غزلوں کا رزق ہے
kitnon ko dastiyaab hai kitnon kaa rizq hai
میں چاہتا ہوں کہ جذبوں کی ترجمانی ہو میں چاہتا ہوں کہ اظہار منہ زبانی ہو میں چاہتا ہوں کہ ہر شے ہو دستیاب مجھے میں چاہتا ہوں کہ دامن میں رائیگانی ہو میں چاہتا ہوں ترے ساتھ زندگی گزرے میں چاہتا ہوں کوئی اور بھی کہانی ہو میں چاہتا ہوں بچھڑنے کا ڈر رہے ہم میں میں چاہتا ہوں محبت میں بد گمانی ہو میں چاہتا ہوں جدائی کا نام بھی نہ رہے میں چاہتا ہوں کسی آنکھ میں نہ پانی ہو
main chaahtaa huun ki jazbon ki tarjumaani ho





