Majaz Aashna
Majaz Aashna
Majaz Aashna
Ghazalغزل
اپنے ہاتھوں کو خود اپنا ہی ہنر کاٹتا ہے جس کو پرواز سکھائیں وہی پر کاٹتا ہے ایسی بے کیفی کہ بازار سے گھبراتا ہوں اور بازار سے گھر جاؤں تو گھر کاٹتا ہے اک عجب کرب کی زنجیر نے جکڑا ہے مجھے اک عجب درد ہے جو میرا جگر کاٹتا ہے زندگی کے لیے لازم ہے درختوں کا وجود وہ ہے ماحول کا دشمن جو شجر کاٹتا ہے زندگی اس طرح جینا کوئی جینا تو نہیں جس طرح آشناؔ بے نام سفر کاٹتا ہے
apne haathon ko khud apnaa hi hunar kaaTtaa hai
میں اپنا ذہن اپنی نظر بیچتا رہا کاغذ کے تاجروں میں خبر بیچتا رہا اتنا دبا ہوا تھا ضرورت کے بوجھ سے مٹی کے مول لعل و گہر بیچتا رہا منزل پہ اب پہنچتا بھی آخر تو کس طرح میں راستے میں زاد سفر بیچتا رہا اپنے لیے خرید نہ پایا کوئی کرن اور دوسروں کو خواب سحر بیچتا رہا بھرتا اگر اڑان تو کیا کھاتا آشناؔ اڑنے کو پر بناتا تھا پر بیچتا رہا
main apnaa zehn apni nazar bechtaa rahaa





