
Majaz Amrohvi
Majaz Amrohvi
Majaz Amrohvi
Ghazalغزل
پاگل کو ہوا سنگ سے یہ پیار مگر کیوں اس دور میں جینے سے ہے انکار مگر کیوں اے عشق ترے ہونے سے انکار نہیں ہے اچھا نہیں ہوتا ترا بیمار مگر کیوں ہر عہد میں رکھا ہے بھرم ہم نے وفا کا کہتا ہے زمانہ ہمیں غدار مگر کیوں میں سوچتا رہتا ہوں اسی باب میں یارو رونے لگا جنگ جیت کے سردار مگر کیوں کہتے ہو شرافت کا زمانہ ہی نہیں ہے بکتی ہے شرافت سر بازار مگر کیوں
paagal ko huaa sang se ye pyaar magar kyon
پھر وہی چاندنی رات ہو تیرے جلووں کی برسات ہو سہل ہو زندگی کا سفر ہاتھ میں گر تیرا ہاتھ ہو دوستوں کو بڑی فکر ہے کس طرح اب مجھے مات ہو خود سے بولے زمانہ ہوا ایرے غیرے سے کیا بات ہو کہئے کھا کر خدا کی قسم آپ سے کب ملاقات ہو اے مجازؔ آئنے کی طرح صاف اپنی ہر اک بات ہو
phir vahi chaandni raat ho
مجھے دنیا سے نفرت ہو رہی ہے مگر تم سے محبت ہو رہی ہے ابھی تو امن کا پیکر ہے باقی ابھی سے کیوں بغاوت ہو رہی ہے بزرگوں کی دعا کا فیض ہے یہ مجھے حاصل جو شہرت ہو رہی ہے بڑھاپا بڑھ رہا ہے جیسے جیسے سہارے کی ضرورت ہو رہی ہے مجازؔ خوش نوا کی شاعری میں نمایاں اک حقیقت ہو رہی ہے
mujhe duniyaa se nafrat ho rahi hai
ترچھی نظر کے وار چلے دل والے دل ہار چلے گھر نہ چلے اک نفرت سے الفت سے سنسار چلے چاہت کی بیساکھی پر نفرت کے بیمار چلے دوست جو باغی ہو جائیں دشمن پر کیا وار چلے تم ہی نفرت والو بتاؤ کب تک یہ تکرار چلے بیچ بھنور میں کشتئ دل کیسے بن پتوار چلے جاتے جاتے کہئے مجازؔ کیا جیتے کیا ہار چلے
tirchhi nazar ke vaar chale
میرے سوا یہ کام کوئی اور بھی کرے دشمن کا احترام کوئی اور بھی کرے میں نے تو راہ عشق میں خود کو مٹا دیا اب زندگی تمام کوئی اور بھی کرے میں نے تو خواب میں بھی یہ سوچا نہیں کبھی دل میں تیرے قیام کوئی اور بھی کرے کیا آپ چاہتے ہیں سر بزم اے مجازؔ روشن وطن کا نام کوئی اور بھی کرے
mere sivaa ye kaam koi aur bhi kare





