
Majeed Maiman
Majeed Maiman
Majeed Maiman
Ghazalغزل
maayus ho ke bazm se teri nikal ke ham
مایوس ہو کے بزم سے تیری نکل کے ہم شدت سے منتظر ہیں پیام اجل کے ہم توبہ تو کی تھی ہم نے کسی کے سجھاؤ پر پی لیں گے آج توبہ ارادہ بدل کے ہم تب شعلۂ وفا کی ترے روشنی ہوئی جب خاک ہو چکے تری فرقت میں جل کے ہم مسجد میں تھے تو واعظ و ملا کے بیچ تھے پہنچے جو میکدے میں تو ساغر میں چھلکے ہم پھرتے ہیں زخم دل لئے صحراؤں میں مجیدؔ کیا خواب دیکھتے تھے حسیں اک محل کے ہم
dil ko tire khayaal se bahlaa rahaa huun main
دل کو ترے خیال سے بہلا رہا ہوں میں یوں شام غم کو صبح کئے جا رہا ہوں میں واقف ہوں میری راہ کی منزل نہیں کوئی دیوانہ وار پھر بھی بڑھے جا رہا ہوں میں میں کہہ رہا ٹھہریے کہ ایسا بھی کیا ستم وہ کہہ رہے ہیں چھوڑیئے اب جا رہا ہوں میں سچ ہے کسی صنم کی عبادت گناہ ہے پھر بھی حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں جو کچھ دیا ہے تیرے مقدس خیال نے اس لذت دوام کو لوٹا رہا ہوں میں کل تک مخالفین کے چرچے تھے ہر طرف ہر بزم اہل ذوق پہ اب چھا رہا ہوں میں
karo vo kaam jis se har kisi ko faaeda pahunche
کرو وہ کام جس سے ہر کسی کو فائدہ پہنچے بنو وہ شمع جس سے تیرہ بختی کو ضیا پہنچے ٹھہر کر سانس بھی ہم نے نہ لی جب گامزن تھے ہم جو رک رک کر چلے راہوں میں وہ منزل کو کیا پہنچے پلا کچھ اس طرح کہ لوٹ کر جانا نہ ہو ممکن کہ ٹھکرا کر دو عالم ہم یہاں تک ساقیا پہنچے جو کہتے تھے کہ گر ڈوبے بھی تو اک ساتھ ڈوبیں گے وہ ہم کو چھوڑ کر منجدھار میں ساحل پہ جا پہنچے ہمارے خون سے اس شوخ کے رنگ حنا آئے پیام شوق لے کر کوئی ان تک دوسرا پہنچے مرا خط پھاڑ کر تم نے کیا اسباب رسوائی یہ ٹکڑے اڑ کے بکھریں گے جہاں تک بھی ہوا پہنچے نہ چھیڑ اے مطرب خوش ذوق نغمہ عشق و الفت کا کہ جس سے اک شکستہ دل کے زخموں کو جلا پہنچے ہم عاجز آ گئے اب ناصح و ملا کی باتوں سے جنہیں ہے خبط جنت کا انہیں تو بس خدا پہنچے
badlaa huaa hai rang jahaan mai-kashi ke baad
بدلا ہوا ہے رنگ جہاں مے کشی کے بعد خود سے لگاؤ ہونے لگا بے خودی کے بعد تابندہ محفلوں میں مجھے یوں نہ روکئے ظلمت میں لوٹنا ہے مجھے روشنی کے بعد یا رب مجھے محال ہے رنجیدہ زندگی لے لے میری حیات بھی میری خوشی کے بعد اس سے سوا بھی عشق میں کیا اور پائیے ہر غم لگے ہے سہل غم عاشقی کے بعد
ziist ki raah mein jitne mujhe gulzaar mile
زیست کی راہ میں جتنے مجھے گلزار ملے ان میں دیکھا تو فقط دھول ملی خار ملے بس اسی وقت سے اہل جنوں کہلائے گئے اس حسیں بت سے جو اہل خرد اک بار ملے اے مسیحا تجھے اک بار پھر آنا ہوگا تیری دنیا میں مجھے سینکڑوں بیمار ملے شیخ صاحب ہی کہیں مجھ کو نہیں آئے نظر ورنہ ہر طرح کے جنت میں گنہ گار ملے ساتھ احباب نبھاتے ہیں اسی طرح مجیدؔ دم نکلنے کو ہے آنکھیں کھلیں اغیار ملے
zulm-o-sitam ki aag mein jaltaa rahaa huun main
ظلم و ستم کی آگ میں جلتا رہا ہوں میں اپنے لہو میں جل کے ابلتا رہا ہوں میں یوں بھی نظام دہر بدلتا رہا ہوں میں اپنے لہو سے آگ اگلتا رہا ہوں میں انسانیت کی تیرگی ہو دور اس لئے قانون کی کتاب میں جلتا رہا ہوں میں مجھ کو نچوڑتی رہی تاریخ بار بار مثل مگس ہی شہد اگلتا رہا ہوں میں یوں حسن گلستاں کو بڑھاتا ہوں میں مجیدؔ ہر لمحہ نوک خار پہ چلتا رہا ہوں میں





