Majid Allahabadi
ہے جنوں کے بھیس میں کوئی نمایاں دیکھیے یوں تو دامن دیکھیے چاہے گریباں دیکھیے برہمیٔ بزم امکاں سے تو ایسا ڈر نہیں ہائے کس دل سے مگر زلف پریشاں دیکھیے کچھ اسیروں کی بھی اس دم یاد لازم ہے حضور فصل گل میں جب کہیں گلہائے خنداں دیکھیے اس دل ایذا طلب کو اور کس سے ہو امید جب بت نا مہرباں کو بھی پشیماں دیکھیے پیشوائی یوں کیا کرتے ہیں اہل عشق کی خود بہ خود ہلنے لگی زنجیر زنداں دیکھیے حضرت ماجدؔ اسی میں اب ہے دل کی خیریت جو دکھائے یہ جنون فتنہ ساماں دیکھیے
hai junun ke bhes mein koi numaayaan dekhiye